Baaghi TV

اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

اخلاق حیدرآبادی ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس ،رکن مرکزی مجلس عاملہ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ (ادارہ مصنفین پاکستان)

اردو اس خطے کی تہذیبی روح اور عوامی اظہار کی سب سے توانا علامت رہی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں اس کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔ ریاستی نظام میں رائج لسانی ترجیحات نے عام شہری اور اقتدار کے مراکز کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔ جب حکمرانی اور فیصلے عوام کی فہم سے باہر زبان میں کیے جائیں تو محرومی اور بیگانگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ لسانی ناانصافی صرف زبان کا مسئلہ نہیں بل کہ سماجی مساوات اور شہری حقوق سے جڑا ہوا ایک سنگین معاملہ ہے۔ زیر نظر تجزیہ اسی المیے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے تاکہ زبان اور اقتدار کے اس نابرابر رشتے کو سمجھا جا سکے۔

آئینی حیثیت کے باوجود اردو کی نظراندازی: قومی زبان اور عملی تضاد
(آئینِ پاکستان، عدالتی فیصلے اور سرکاری وعدے بمقابلہ عملی صورتِ حال)
آئینِ پاکستان اردو کو قومی زبان کا درجہ دیتا ہے اور واضح طور پر یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی امور، سرکاری مراسلت اور عدالتی کارروائیاں اسی زبان میں انجام پائیں مگر عملی سطح پر یہ آئینی شق محض کاغذی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلوں کی زبان، قوانین کے مسودے، احکامات اور نوٹیفکیشنز ایسی زبان میں مرتب کیے جاتے ہیں جو عام شہری کی فہم سے بالاتر ہے۔ اس صورتِ حال میں قومی زبان کا حق تسلیم کیے جانے کے باوجود اس سے مسلسل انحراف ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ عوام جنھوں نے ریاست کو وجود بخشا، وہی اپنے ہی ملک میں سرکاری زبان کے ذریعے اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ آئین کا مقصد یہ تھا کہ زبان کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان قربت پیدا ہو مگر موجودہ طرزِ عمل نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔ اردو کی نظراندازی صرف ایک لسانی مسئلہ نہیں بل کہ یہ شہری حقوق کی پامالی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جب قانون، فیصلہ اور ہدایت عوام کی زبان میں نہ ہوں تو وہ ان کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ آئینی وعدے محض رسمی ہیں اور ان پر عمل درآمد ریاست کی ترجیح نہیں۔ قومی زبان کو نظر انداز کرنا دراصل قومی شناخت سے روگردانی کے مترادف ہے۔ یہ رویہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر آئین کی بنیادی شقوں پر ہی عمل نہ ہو تو عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اردو کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک معاشرتی ناہمواری کو بڑھاتا ہے اور شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور کر دیتا ہے۔ اس تضاد کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب آئین کو محض ایک دستاویز نہیں بل کہ عملی رہنما سمجھا جائے اور قومی زبان کو واقعی اس کا جائز مقام دیا جائے۔

انگریزی بطور طاقت کی زبان: طبقاتی تفریق اور عوامی بیگانگی
(زبان کا استعمال بطور اقتدار، اشرافیہ اور عام شہری کے درمیان فاصلہ)
یہ موضوع محض لسانی بحث نہیں بل کہ طاقت، اختیار اور سماجی درجہ بندی کا گہرا مسئلہ ہے۔ انگریزی بطور طاقت کی زبان دراصل ایک ایسے نظام کی علامت بن چکی ہے جس میں علم، مواقع اور اختیار چند مخصوص طبقات تک محدود ہو جاتے ہیں جب کہ عوام کی اکثریت خود کو اس دائرے سے باہر محسوس کرتی ہے۔ یہ زبان رفتہ رفتہ علمی برتری، ذہانت اور قابلیت کا پیمانہ قرار دے دی گئی ہے جس کے نتیجے میں مقامی زبانوں سے وابستہ افراد کمتر، غیر متعلق اور پس ماندہ سمجھے جانے لگتے ہیں۔ تعلیمی اداروں، دفتری نظام اور ریاستی بیانیے میں اسی زبان کی بالادستی طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کرتی ہے کیوں کہ جسے اس زبان پر عبور حاصل نہیں وہ فیصلہ سازی، اظہارِ رائے اور سماجی ترقی کے عمل سے عملاً خارج ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہتی بل کہ ایک ایسا ہتھیار بن جاتی ہے جو عوام کو ان کی اپنی ثقافت، فکری روایت اور اجتماعی شعور سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ یوں معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک وہ جو زبان کے ذریعے طاقت سے جڑا ہے اور دوسرا وہ جو اسی زبان کے باعث خود کو اجنبی، خاموش اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر زبان کو علم اور شعور کی ترسیل کے بجائے سماجی امتیاز کا ذریعہ بنا دیا جائے تو یہ عمل نہ صرف عوامی بیگانگی کو جنم دیتا ہے بل کہ فکری انصاف اور ثقافتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی: فہم کی رکاوٹ یا انصاف کی نفی؟
(انگریزی عدالتی اصطلاحات، عام سائل کی مجبوری اور انصاف میں تاخیر)
عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی کا مسئلہ دراصل عام شہری اور ریاستی نظام کے درمیان فاصلے کی علامت ہے، جہاں پیچیدہ، اجنبی اور غیر مانوس زبان فہم کی راہ میں ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ جب عدالتوں میں ایسی زبان رائج ہو جو عوام کی اکثریت کی روزمرہ بول چال اور فکری سطح سے ہم آہنگ نہ ہو تو انصاف محض ایک نظری تصور بن کر رہ جاتا ہے، کیونکہ جسے بات ہی سمجھ نہ آئے وہ اپنے حق کا مطالبہ کیسے کرے۔ عدالتی اصطلاحات، طویل جملے اور مبہم اسلوب عام فرد کو خوف، الجھن اور بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ وکیلوں، کاتبوں اور دلالوں پر غیر معمولی انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں انصاف کا عمل سادہ حق کے بجائے ایک مہنگی اور پیچیدہ رسم بن جاتا ہے جو صرف باخبر اور صاحبِ وسائل طبقے کے لیے قابلِ حصول رہتی ہے۔ یوں زبان انصاف کی وضاحت کا ذریعہ ہونے کے بجائے اس کی نفی کا سبب بننے لگتی ہے کیوں کہ فہم کے بغیر انصاف محض فیصلے کا اعلان ہے، شراکت اور اطمینان کا ذریعہ نہیں۔ اگر عدالتی زبان عوام کی ذہنی سطح اور لسانی روایت سے قریب نہ ہو تو یہ نظام خود اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے اور انصاف ایک زندہ حقیقت کے بجائے دور، سرد اور غیر متعلق تصور میں ڈھل جاتا ہے۔

سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن: فائل، فارم اور فرد کی بے بسی
(درخواستیں، نوٹیفکیشنز، دفتری کارروائی اور عوامی مشکلات)
سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن عام شہری کی روزمرہ زندگی کو اذیت ناک تجربہ بنا دیتی ہے جہاں کاغذی کارروائی، درخواست نامے اور دفتری تحریریں ایک ایسی زبان میں ہوتی ہیں جو عوام کی فہم اور تجربے سے میل نہیں کھاتیں۔ جب ایک سادہ انسان کسی کام کے لیے دفتر کا رخ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی خوف اور تذبذب کا شکار ہوتا ہے، مگر اجنبی اصطلاحات، پیچیدہ جملے اور غیر مانوس اسلوب اس کی بے بسی کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ دفتری تحریر کا مقصد رہنمائی اور سہولت ہونا چاہیے لیکن جب زبان رکاوٹ بن جائے تو شہری اپنی ہی درخواست کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ اہلکاروں کی مرضی، ترجمانوں کے سہارے اور غیر ضروری سفارشات کا محتاج بن جاتا ہے، جس سے عزتِ نفس مجروح اور اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یوں زبان خدمت کا ذریعہ بننے کے بجائے اقتدار کی علامت بن جاتی ہے جہاں عام فرد خود کو نظام کے سامنے بے زبان اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر سرکاری دفاتر میں زبان عوام کے مزاج اور فہم کے مطابق نہ ہو تو یہ لسانی الجھن شہری اور ریاست کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیتی ہے، اور انتظامی عمل سہولت کے بجائے مستقل اذیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

اردو رسم الخط کی بگڑتی صورت اور تعلیمی و ثقافتی بحران
(غلط املا، رومن اردو، نصابی کمزوری اور تہذیبی شناخت کا زوال)
اردو رسم الخط کی بگڑتی ہوئی صورت دراصل ہمارے تعلیمی اور ثقافتی بحران کی گہری علامت ہے جہاں سہولت اور جلد بازی کے نام پر زبان کی اصل ہیئت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں درست املا اور خوش خطی کی تربیت بتدریج نظر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل حروف کی ساخت، صوتی آہنگ اور لفظی تہذیب سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور روزمرہ تحریر میں بے احتیاطی نے رسم الخط کو ایک غیر واضح اور منتشر شکل دے دی ہے جس سے نہ صرف فہم میں دشواری پیدا ہوتی ہے بل کہ تہذیبی تسلسل بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ رسم الخط محض لکھنے کا وسیلہ نہیں بل کہ صدیوں کی فکری روایت، شعری ذوق اور علمی وراثت کا امین ہوتا ہے اور جب اسی کو بگاڑ دیا جائے تو ادب، تاریخ اور ثقافت سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس بگاڑ کے نتیجے میں طلبہ زبان سے رغبت کے بجائے اجنبیت محسوس کرتے ہیں اور یوں اردو آہستہ آہستہ تعلیمی دائرے سے سکڑ کر رسمی یا جذباتی اظہار تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اس صورتِ حال کا سنجیدہ ادراک نہ کیا گیا تو اردو رسم الخط کے ساتھ جڑا ہوا پورا تہذیبی شعور کمزور پڑ. جائے گا اور ہم اپنی شناخت کے ایک بنیادی ستون سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔

More posts