Baaghi TV

فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

hafi masood ahar

کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وہ نام ہے جو تاریخ کے صفحات پر نور کی مانند چمکتا ہے اور جس کی عظمت کا اعتراف وہی دل کرتا ہے جوایمان کی مٹھاس وحلاوت سے لبریز ، انصاف شناس اور علم دوست ہو۔ ان کے ذکر کے بغیر تاریخِ اسلام مکمل نہیں ہوتی اور ان کے بغیر صحابہ کا قافلہ ادھورا ہے۔ یہ وہ ہیں جن کے بارے میرے رب نے فرمایا کہ اللہ ان سے اور و ہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ صرف ایک صحابی نہ تھے، وہ ایک کاتبِ وحی، ایک مدبر حکمران، ایک بے مثال مفاہمت کرنے والے، ایک بے نظیر مصلح اور امت محمدیہ علی صاحبھاالصلاۃ والسلام کو اتحاد کی لڑی میں پرو دینے والے ایک باوقار قائد اور خلفاء اربعہ کے جانشین تھے۔

جب مکہ فتح ہوا اور کفارِ قریش کے سرداروں کے دل جھکنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دل بھی نورِ ایمان سے روشن ہوا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیعت کی اور دینِ حق میں داخل ہو کر اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ رسول مقبول ﷺ نے ان پر اعتماد کیا،اتنا اعتماد کیا کہ انہیں مقربین میں شامل کرلیا ، یہاں تک کہ انہیں کاتبِ وحی مقرر کردیا۔ یہ کوئی عام منصب نہ تھا، یہ وہ ذمہ داری تھی جو اللہ کے کلام کو زمین پر محفوظ کرنے کے لیے سونپی جاتی تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ شخص جس کے ہاتھ سے وحیِ الٰہی لکھی جائے،سبحان اللہ اس کے دل کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کا ایمان کس اعلیٰ درجے کا ہوگا ،اس کی امانت، دیانت اور پاکیزگی کیسی ہوگی؟اور ان کے دل میں رسول اللہ اور اہل بیت اطہار کی کیا عظمت ومقام ہوگا۔؟

رسول مقبول ﷺ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ صرف کاتب وحی مقرر فرمایا بلکہ انھیں اپنے مقرب ترین صحابہ میں شامل کیا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی۔ دعا کیا تھی؟ کوئی دعا نہ تھی بلکہ ایک عطا۔۔۔ ایک سند۔۔۔اورایک گواہی تھی : "اللھم الجعلہ ھادیا مھدیا واھد ب یعنی اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ۔۔۔اللہ تعالیٰ اور پیغمبر آخر الزمان جناب محمد رسول ﷺ کے محبوب تھے اور امت کے لیے ذریعہ ہدایت تھے۔

جب امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو آپ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا۔ وہ دن اور پھر ان کا 20 سالہ گورنری کا دور — سب تاریخ کا روشن باب بن گئے۔ جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو آپ نے بھی کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اسی منصب پر برقرار رکھا جس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فائز کیا تھا ۔جب انہیں خلافت کی خلعت پہنائی گئی اورامیر المومنین کے منصب پر فائز ہوئے تو امت میں مثالی امن، سکون اور ترقی لائے۔ شام، جو کبھی رومیوں کی سرزمین تھی، اسلامی تمدن، علم، طاقت، اور عدل کا مرکز بن گیا۔ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں صرف زمین ہی نہیں سنواری بلکہ امت کے دل بھی جوڑے۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امت کے لیے خدمات تاریخ کا ایک شاندار ، ایمان افروز اور سنہرا باب ہے۔یہ باب اپنے اندر فتوحات اور جرأت وبہادری کے اسباق لیے ہوئے ہے۔ ان کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک عظیم خدمت یہ تھی کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کی پہلی بحری فوج بنائی۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان سمندروں میں جانے سے گھبراتے تھے، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے دلوں سے یہ خوف نکالا اور انہیں یہ بتایا کہ اسلام نہ صرف خشکی پر بلکہ سمندر پر بھی غالب آ سکتا ہے۔ انہوں نے قبرص فتح کیا، بحری بیڑے کو مضبوط کیا اور دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ایک عالمی طاقت بن چکا ہے۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی دانائی ، صلح جوئی اور فہم وفراست کا سب سے اہم باب اس وقت کھلا جب داماد رسول امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بحران پیدا ہوا۔ امت دو حصوں میں بٹنے کو تھی خونریزی جاری تھی ۔ ایسے نازک وقت میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی یوں امت ایک بار پھر متحد ہو گئی۔ یہ واقعہ ’’ عام الجماعۃ ‘‘ کہلاتا ہے۔۔۔۔یعنی وہ وقت جب امت میں ایک بار پھر اتحاد قائم ہوا۔ نواسہ رسول جگر گوشہ بتول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے "سید” کہا ا ور فرمایا کہ اللہ ان کے ذریعے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔ یہ صلح۔۔۔۔۔۔سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ رعنہ کی عظمت، حلم اور حکمت کی علامت ہے۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حلم و بردباری تھی۔ ان کے دشمن گالی دیتے، مگر وہ خاموش رہتے۔ ایک بار کسی نے ان سے بد زبانی کی تو آپ نے فرمایا : اگر میں بدلہ لوں تو تم خوش ہو جاو گے، اگر میں معاف کر دوں تو میرا رب راضی ہو جائے گا اور میں اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ وہ جواب تھا جو صرف وہی دے سکتا ہے جس کا دل معرفت ومحبت الٰہی اور تقویٰ سے لبریز ہو اور جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر امت کے نفع کے بارے میں سوچتا ہو۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کادور خلافت۔۔۔۔ تاریخ اسلام کا مستحکم، طاقتور اور پرامن دور مانا جاتا ہے۔ آپ کے دور خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود مشرق و مغرب تک پھیل گئیں۔ رعایا مطمئن، عدالتیں فعال اور دشمن خاموش تھے۔ آپ نے شریعت کی روشنی میں نظام حکومت چلایا اور اہل علم کو عزت دی۔ ان کا طرزِ حکمرانی آج بھی حکمرانوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات 60 ہجری میں دمشق میں ہوئی۔ ان کی وفات صرف ایک فرد کی وفات نہ تھی بلکہ ایک دور کا اختتام تھا۔۔۔۔ایک ایسا دور جو عدل، حکمت، حلم، اور فہم سے مزین تھا۔ علماء کرام و محدثین عظام نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی تعریف کی ہے۔ امام احمد بن حنبل، امام ذہبی، امام ابن کثیر، امام ابن تیمیہ، امام غزالی سب نے ان کی مدح کی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے امت کو علم کے نور سے روشن کیا اور ان کی گواہی آج بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایمان پر ایمان رکھنا، ان سے محبت کرنا، ان کے مناقب بیان کرنا صرف محبت نہیں ایک مسلمان کے عقیدہ کا جزو لازم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے ا صحاب کو گالی نہ دو، کیونکہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرو، ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اتحاد امت کے داعی ، کاتب وحی ، رسول اللہ کے مقرب ، اہل ایمان کے خال ( ماموں ) فتنوں کو دبانے والے ،آپ کی زندگی قرآن و سنت کی روشنی سے منور اور آپ کی حکمرانی امت کے لیے باعثِ رحمت تھی۔ آپ پر اعتراض تبصرے یا تجزیے کرنے والا عالم نہیں، جاہل اور متعصب ہے, اس کا ایمان مشکوک ہے۔ اور آپ سے محبت کرنے والا صاحب ایمان ہے،

اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت اطہار، تمام صحابہ کرام ، بالخصوص سیدنا علی ابی طالب ، سیدنا امیر معاویہ، سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھم کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں ان فتنہ انگیز زبانوں سے محفوظ رکھے جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یہی عقیدہِ اہل سنت ہے، یہی راہِ اعتدال ہے، اور یہی راستہ ایمان کی خوشبو سے لبریز ہے۔

More posts