Baaghi TV

واشنگٹن کی توجہ، اسلام آباد کا مؤقف پاکستان کی نئی اسٹریٹجک موجودگی۔تجزیہ : شہزاد قریشی

عالمی سیاست میں توجہ حاصل کرنا اکثر طاقت کے مظاہرے یا جارحانہ سفارت کاری کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، مگر بعض اوقات مستقل مزاجی، ادارہ جاتی ضبط اور حقیقت پسندانہ مؤقف بھی عالمی طاقتوں کو متوجہ کر لیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں واشنگٹن میں پاکستان ایک بار پھر سنجیدہ غور و فکر کا موضوع بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی خارجہ پالیسی میں روایتی سفارتی آداب کے بجائے براہِ راست مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی توجہ حاصل کرنا کسی بھی ملک کے لیے ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا دوبارہ امریکی پالیسی ڈسکورس میں جگہ بنانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے بیانیے کو محض دفاعی دائرے سے نکال کر اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم میں پیش کیا ہے۔

یہ پیش رفت آسان نہیں تھی۔ پاکستان کو ایک طویل عرصے سے کئی محاذوں پر سوالات اور دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیاں اکثر عالمی بیانیے میں پس منظر میں چلی گئیں، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے کردار کو مسلسل جانچ کے عمل میں رکھا، جبکہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی فعال سفارت کاری نے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ اندرونی سیاسی اور معاشی عدم استحکام نے بھی پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا۔
ان حالات میں جنرل عاصم منیر کی حکمت عملی نمایاں طور پر محتاط مگر مؤثر رہی۔ پاکستان نے خود کو کسی بحران کے ذمہ دار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست، علاقائی استحکام کے شراکت دار اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر فریق کے طور پر پیش کیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جس نے واشنگٹن میں دوبارہ سنجیدہ مکالمے کی گنجائش پیدا کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کا پاکستان کی جانب مبذول ہونا محض علامتی واقعہ نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالمی طاقتیں بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں—خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ جنوبی و وسطی ایشیا ایک بار پھر عالمی اسٹریٹجک مقابلے کا مرکز بن رہا ہے۔

تاہم یہ لمحہ پاکستان کے لیے صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک امتحان بھی ہے۔ عالمی توجہ عارضی ہوتی ہے، اگر اسے واضح پالیسی اہداف، معاشی اصلاحات اور علاقائی استحکام کی عملی کوششوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب اس اسٹریٹجک موقع کو دیرپا شراکت داری میں ڈھالنا ہے، نہ کہ اسے محض ایک وقتی سفارتی کامیابی تک محدود رکھا جائے۔
اگر پاکستان اس موقع سے دانشمندی سے فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ نہ صرف واشنگٹن بلکہ دیگر عالمی دارالحکومتوں میں بھی اس کی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ اور یہی کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی کی اصل کامیابی ہوتی ہے—خاموش، مستحکم اور دیرپا۔

More posts