سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور تحریک انصاف کے اہم رہنما علی امین گنڈاپور نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ناقابل اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ وہ آئینی ترامیم کے موقع پر بھی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تھے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کی باتیں کی جارہی ہیں، تاہم ان کے خیال میں مولانا فضل الرحمان یہ سب اپنے سیاسی مفادات کے لیے کر رہے ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ماضی کے سیاسی معاملات اور آئینی ترامیم کے دوران مولانا فضل الرحمان کے کردار کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف کے لیے ان پر مکمل اعتماد کرنا آسان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی معاملات میں اپنے مؤقف اور مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرے گی اور کسی بھی سیاسی اتحاد کے حوالے سے ماضی کے تجربات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
تاہم علی امین گنڈاپور نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کی شمولیت سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن ہوسکتی ہے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے اور اگر اس مقصد کے حصول میں مولانا فضل الرحمان سمیت کسی سیاسی رہنما کا کردار سامنے آتا ہے تو اس حوالے سے پی ٹی آئی کو اعتراض نہیں ہوگا۔
