Baaghi TV

مظلوم کی مدد جرم ٹھہری پولیس بھی مدد کو جرم ثابت کرنے پر تل گئی

قصور
مظلوم کی مدد جرم ٹھہرا پولیس بھی مظلوم کو مجرم ثابت کرنے پر تل گئی
رحیم یار خان کی 13 سالہ صائمہ بی بی نے مجسٹریٹ سیکشن 30 چونیاں کی عدالت میں سچ اگل دیا
تفصیلات کے مطابق 18 جنوری کو تھانہ کنگن پور نے ریاض و رحمت علی قوم جٹ سکنہ چاہل نو کے گھر سے رحیم یار خان کی رہائشی 13 سالہ لڑکی صائمہ بی بی کو بازیاب کروایا اور میڈیا کو بتایا کہ ریاض اور اس کی بیوی بشری بی بی اس لڑکی کو کو فروخت کرنا چاہتے تھے اور یہ کہ اس لڑکی کا میڈیکل کروانے پر زنا کا بھی انکشاف ہوا ہے کل بتاریخ 18 جنوری کو پولیس تھانہ کنگن پور نے ریاض اور لڑکی صائمہ بی بی کو چونیاں میں مجسٹریٹ سیکشن 30 آصف اقبال کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں لڑکی صائمہ بی بی نے سچ بتا کر گیم ہی الٹ دی
صائمہ بی بی نے بتایا کہ میں رحیم یار خان کی رہائشی ہوں میرے ماں باپ مجھے سخت مار پیٹ کا نشانہ بناتے تھے جس کی بدولت میں گھر سے بھاگ کر داتا دربار لاہور پہنچ گئی 6 سے 7 دن پہلے میں داتا دربار پر رو رہی تھی کہ وہاں مجھے آنٹی بشری جو کہ چچا ریاض کی بیوی ہے نے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہو اس نے مجھے کھانا کھلایا اور میرے اصرار کرنے پر مجھے اپنے گھر موضع چاہل نول کنگن پور لے آئی جبکہ چچا ریاض مجھے ساتھ لیجانے پر راضی نا تھے 13 جنوری کو میں ان کیساتھ ان کے گھر پہنچی مگر 14 جنوری کو چچا ریاض نے کہا کہ مہنگائی کا زمانہ ہے میں تجھے اپنے گھر نہیں رکھ سکتا لہذہ میرے گھر سے نکل جاءو سو میں ان کے گھر سے نکل کر گجومتہ لاہور پہنچ گئی
مگر میں پھر بس میں بیٹھ کر پرانا لاڑی اڈہ قصور پہنچ گئی جہاں میں نے ایک لڑکے سے کنگن پور جانے کیلئے پتہ پوچھا جو کہ مجھے ایک نامعلوم مقام پر لے گیا اور اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر اکیلا چھوڑ کر بھاگ گیا مجھے اس نے اپنا نام عظیم بتایا تھا میں وہاں سے نکل کر پوچھتی ہوئی موضع چاہل نول چچا ریاض کے گھر پہنچ گئی جس پر چچا ریاض نے دھکے دے کر نکالنے کی کوشش کی تو میں نے ان کی منت سماجت کی کے مجھے گھر میں اللہ کیلئے رکھ لو تو چچا ریاض اور اس کی بیوی بشری بی بی نے رکھ لیا اور کہا کہ گھر سے باہر نہیں جانا ماحول خراب ہے ایک دن چچا ریاض اور اس کی بیوی نے مجھے پوچھا کہ تمہاری شادی کر دیں تو میں نے انکار کر دیا جس پر دونوں میاں بیوی نے کہا کہ تم ہماری بیٹی بن کر رہو
میں ان کے گھر رہتی رہی کہ 18 جنوری کو پولیس نے ریڈ کی اور میرا میڈیکل کروا کر الزام چچا ریاض پر لگا دیا اور موقف اپنایا کہ مجھے اغواء کیا گیا ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں میرے ساتھ ان کا رویہ ماں باپ جیسا تھا پولیس کو ریاض کے رشتہ دار محمد یوسف ملازم پولیس نے ذاتی عداوت کی بناء پر غلط خبر دی تھی جس پر پولیس نے بھی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی
لڑکی کے بیان کے بعد عدالت نے کل ہی لڑکی کو دارالامان قصور بیجھنے کے آرڈر جاری کئے تھے مگر افسوس کہ پولیس نے رات لڑکی کو تھانہ میں ہی رکھا اور اس سے بیان بدلوانے کی کوشش کی اور آج لڑکی کو دارالامان بیجھا گیا ہے
جو کہ سراسر توہین عدالت ہے

More posts