لاہور: جوڈیشل ایکٹوازم پینل اور ہیومن رائٹس اینڈ پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن ایسوسی ایشن کے سرکردہ وکلاء نے سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ محمد اظہر صدیق کی قیادت میں 21 فروری 2026 کو ایک تفصیلی قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے مالیت کا لگژری طیارہ خریدنے کے اقدام کو چیلنج کر دیا ہے۔
قانونی نوٹس چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب)، وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری، فنانس سیکریٹری، چیئرمین پی پی آر اے اور اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو ارسال کیا گیا ہے۔نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک لگژری Gulfstream G500 طیارہ (رجسٹریشن نمبر N144SAP-PUN) جنوری 2026 میں مبینہ طور پر صوبائی بیڑے میں شامل کیا گیا، تاہم اس خریداری کا کوئی ریکارڈ پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے لازمی پورٹل یا کسی سرکاری دستاویز میں دستیاب نہیں۔ وکلاء نے اسے عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر نیب ریفرنس دائر کرنے، معاہدہ منسوخ کرنے اور سات روز کے اندر مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ خریداری پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014 کے قواعد 38، 39 اور 42 کی صریح خلاف ورزی ہے، جن کے تحت اوپن کمپٹیٹو بڈنگ، ٹینڈرنگ، پری کوالیفکیشن اور بڈ ایویلیوایشن لازمی ہے۔ وکلاء کے مطابق نہ تو کسی ٹینڈر کا اجرا ہوا، نہ بڈنگ کا کوئی عمل سامنے آیا اور نہ ہی براہِ راست معاہدے کی کوئی قانونی توجیہ پیش کی گئی۔نوٹس میں اس اقدام کو رول 50 کے تحت “مس پروکیورمنٹ” قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ لین دین آئینی طور پر بھی مشکوک ہے کیونکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی)، آرٹیکل 14 (وقار کا تحفظ)، آرٹیکل 19-اے (حقِ معلومات) اور آرٹیکل 118 (صوبائی فنڈ سے رقوم کے اجراء) کے تقاضوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ عوامی خزانے سے شاہانہ اخراجات اس وقت ناقابل قبول ہیں جب صوبہ مالی بحران، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں کمی کا سامنا کر رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کی جانب سے طیارے کو “ایئر پنجاب” یا ایئر ایمبولینس سروس کے لیے قرار دینے کے مؤقف کو بھی قانونی نوٹس میں مسترد کر دیا گیا ہے۔ وکلاء کے مطابق “ایئر پنجاب” نامی کسی فعال ادارے کا وجود یا آپریشنل ڈھانچہ موجود نہیں، جبکہ جی 500 طیارہ وی آئی پی لگژری کنفیگریشن پر مشتمل ہے جسے طبی مقاصد کے لیے استعمال کرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ جب پہلے سے ایک فعال سرکاری طیارہ دستیاب تھا تو نئی خریداری بلا جواز ہے۔ نوٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ یہ اقدام کابینہ کی بحث، صوبائی اسمبلی کی منظوری اور کسی لاگت و افادیت تجزیے کے بغیر کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو مبینہ نقصان پہنچا۔
قانونی نوٹس میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر مکمل پروکیورمنٹ فائل کی مصدقہ نقول فراہم کریں، جن میں خریداری کی درخواست، بڈنگ دستاویزات، کابینہ اجلاس کی کارروائی، مالی ادائیگیوں کی تفصیل (بجٹ ہیڈز، ایل سیز، اسٹیٹ بینک منظوری)، معاہدے، ویابیلیٹی اسٹڈی اور سول ایوی ایشن کلیئرنس شامل ہوں۔
واضح کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں لاہور ہائی کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ آف مینڈیمس اور کو وارنٹو کے لیے رجوع کیا جائے گا، معاہدے کو کالعدم قرار دینے، طیارہ گراؤنڈ کرنے، فرانزک آڈٹ کرانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی جائے گی۔
