آبنائے ہرمز میں 18 بھارتی پرچم بردار جہازوں کے پھنس جانے کے باعث بھارت میں توانائی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ان جہازوں میں ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی کی بڑی مقدار موجود ہے، جس کی ترسیل رکنے سے توانائی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ جہاز اس وقت آبنائے ہرمز میں محصور ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں مل رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف “برادر ممالک” کے جہاز ہی پیشگی ہم آہنگی کے بعد اس اہم گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں۔دوسری جانب، گزشتہ ماہ کے آخر میں بھارتی وزارتِ جہاز رانی نے دعویٰ کیا تھا کہ دو بھارتی ایل پی جی ٹینکرز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں، جن میں سے ایک ممبئی جبکہ دوسرا نیو منگلورو بندرگاہ پر لنگر انداز ہونا تھا۔
مودی کی بدترین سفارتکاری اور دوغلی پالیسیوں کی بدولت بھارت میں توانائی بحران سنگین ہو گیا ،بھارتی نشریاتی ادارہ این ڈی ٹی وی کے مطابق؛بھارتی حکام نے بھارت کو ایندھن ترسیل کرنے والے 10غیر ملکی پرچم والے جہازوں کے خلیج فارس میں پھنسنے کی تصدیق کر دی،بھارتی میڈیا کے مطابق جنگ سے متاثرہ علاقہ محض آبنائے ہرمز تک محدود نہیں بلکہ اس سے باہر کے علاقے بھی ہائی رسک ایریامیں شامل ہیں،ایرانی حکام نے واضح کر دیا کہ صرف برادر ممالک کے جہاز ایرانی حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں ،عالمی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز جیسا اہم تجارتی راستہ مفلوج ہونے سے بھارت میں ایندھن کی قلت شدت اختیار کر چکی ہے،مودی کی اسرائیل نواز اور غیر مؤثر منصوبہ بندی نے بھارت کو شدید ترین توانائی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے
