بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،پونے میں انسانیت سوز واقعات نے ایک بار پھر معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں چندن نگر کے علاقے میں دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پر مسلسل زیادتی اور بلیک میلنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں کیسز میں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق پہلا واقعہ ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ پیش آیا، جسے ایک 27 سالہ ملزم بالاجی گروناتھ سوامی نے مبینہ طور پر کئی ماہ تک ڈرا دھمکا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزم کو معلوم تھا کہ لڑکی کم عمر ہے، اس کے باوجود وہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر مسلسل اپنی درندگی کا شکار بناتا رہا۔ جب متاثرہ لڑکی کی والدہ کو اس ظلم کا علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کرائی۔پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت درج ہونے کے بعد ملزم نے لڑکی کے گھر جا کر اہل خانہ کو بھی دھمکانے کی کوشش کی، تاہم چندن نگر پولیس اسٹیشن نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ اس کے خلاف مختلف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دوسرا واقعہ بھی اسی علاقے میں پیش آیا جہاں ایک اور 27 سالہ ملزم ریتک راؤ صاحب لونکے نے ایک نابالغ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے واردات کے بعد متاثرہ لڑکی کی تصاویر حاصل کر کے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دیں، جس کے باعث لڑکی شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہی اور طویل عرصے تک خاموشی سے اذیت برداشت کرتی رہی۔معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دوسرے ملزم کو بھی گرفتار کر لیا۔ دونوں کیسز میں متاثرہ لڑکیوں کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں جبکہ طبی اور قانونی تقاضے مکمل کیے جا رہے ہیں۔
