اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں ملک بھر میں دہشت گردی، عسکریت پسند حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ سال گزشتہ دس برسوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان والا سال ثابت ہوا،
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر 3,387 افراد ہلاک ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 73 فیصد اضافہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 2,115 عسکریت پسند شامل ہیں، جن کی تعداد میں 122 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ 664 سیکیورٹی اہلکار اور 580 عام شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے علاوہ امن کمیٹیوں کے 28 ارکان بھی تشدد کا نشانہ بنے۔زخمیوں کے اعداد و شمار بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں 2,263 افراد زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ ہیں۔ زخمیوں میں 1,025 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار، 982 شہری اور 228 عسکریت پسند شامل ہیں۔
PICSS کے مطابق ملک بھر میں عسکریت پسند حملوں کی تعداد 1,063 رہی، جو 2014 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ان حملوں میں خودکش حملوں کی تعداد 26 ریکارڈ کی گئی، جن میں 53 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈرون اور کوآڈ کاپٹر کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا، اور سال کے دوران ایسے 33 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں نگرانی اور حملوں دونوں مقاصد شامل تھے۔انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ 2025 میں 497 مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا، جو 2017 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی عسکریت پسندوں کی جانب سے اغوا کے واقعات 215 تک پہنچ گئے، جو 2012 کے بعد سب سے بلند سطح ہے، اور اس میں 162 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔علاقائی سطح پر اگر جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ تشدد خیبر پختونخوا (بالخصوص سابقہ فاٹا کے علاقے) اور بلوچستان میں رپورٹ ہوا۔ ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں، ٹارگٹ حملے اور دیگر پرتشدد واقعات مسلسل سامنے آتے رہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی اداروں دونوں کی جانب سے ٹیکنالوجی، خصوصاً ڈرونز، کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جوابی کارروائیوں میں بھی تیزی آئی، جس کے نتیجے میں تشدد کے مجموعی واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔PICSS کے مطابق 2025 کے اعداد و شمار اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک بار پھر سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی، شہریوں کے مؤثر تحفظ، اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں جانی نقصان کو کم کیا جا سکے اور ملک میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
