Baaghi TV

ڈیرہ غازی خان: دستی پل پر بس کی موٹر سائیکل اور چنگچی رکشہ کو ٹکر، 3 جاں بحق، ریسکیو آپریشن پر سوالات

ڈیرہ غازیخان (نیوز رپورٹر)ڈیرہ غازی خان کے علاقے دستی پل پر 10 جنوری 2026 کو پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے میں ایک مسافر بس کی موٹر سائیکل اور چنگچی رکشہ سے ٹکر کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم کو دن 11 بج کر 32 منٹ پر موصول ہوئی۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق کراچی سے ڈیرہ غازی خان آنے والی بس کے ڈرائیور نے غلط موڑ لینے والی موٹر سائیکل کو بچانے کی کوشش میں اچانک لین تبدیل کی، جس کے باعث سامنے سے آنے والے چنگچی رکشہ سے تصادم ہو گیا، جبکہ موٹر سائیکل سوار بھی بس کی زد میں آ گئے۔

حادثے کے بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بس کے نیچے پھنسے دو موٹر سائیکل سواروں کو نکالنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اسی حادثے میں چنگچی رکشہ ڈرائیور بھی موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ تینوں لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ غازی خان منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

جاں بحق ہونے والوں میں حاجی محمد نواز ولد حافظ شیر محمد، عمر 55 سال، چنگچی رکشہ ڈرائیور، سکنہ رشید آباد نزد خدا بخش چوک شامل ہیں۔
دوسرا جاں بحق شخص اللہ ڈیوایا ولد غلام یاسین، عمر 19 سال، موٹر سائیکل سوار، سکنہ لوہار والا ڈیرہ غازی خان تھا، جس کا سر کچلنے کے باعث موقع پر ہی انتقال ہو گیا۔
تیسرا جاں بحق شخص ابراہیم ولد حافظ حنیف، عمر 17 سال، موٹر سائیکل سوار، سکنہ رشید آباد نزد خدا بخش چوک تھا، جو شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

دوسری جانب شہریوں نے ریسکیو آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو بس کے نیچے سے نکالنے کے لیے ریسکیو 1122 نے موقع پر نہ تو کرین یا ایکسیویٹر منگوایا اور نہ ہی کوئی بھاری مشینری استعمال کی گئی، جس کے باعث امدادی کارروائی مؤثر ثابت نہ ہو سکی۔ شہریوں کے مطابق صرف لفٹر کے ذریعے زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کی گئی، جبکہ اگر بروقت کرین یا ایکسیویٹر طلب کیا جاتا تو ممکن تھا کہ کوئی قیمتی جان بچائی جا سکتی۔

شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ممکنہ غفلت کا تفصیلی جائزہ لے کر ریسکیو 1122 یا ضلعی انتظامیہ کی سطح پر ذمہ دار افراد کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کے دوران بروقت اور مؤثر امدادی کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

More posts