باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جعلی حکمرانوں کے خلاف عدالتوں میں آئیں گے،
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ چور کا یوم حساب آیا چاہتا ہے ،پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ کو استعمال کیا ،الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کا اعتراف جرم موجود ہے،الیکشن کمشنر کے پاس ان کو سزا دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے خلاف پوری قوم آواز اٹھائے گی ،جعلی اور جھوٹا مقدمہ سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا، اے این ایف میں میرے کیس کو پونے دو سال ہو گئے،تمام جعلی مقدمات صرف ایک حکم سے ختم ہو جائینگے،مقدمے کی کاپیوں کی عدم فراہمی پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ تبدیل ہوئی،
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ میں 7 ارب روپے ادا کیا گیا اور ان کو اکاوَنٹ میں رکھا،براڈ شیٹ مالک خود متنازع ہیں،کیس کی ویڈیو میڈیا عدالت کو فراہم نہیں کی جا سکی
انسداد منشیات فورس نے(اے این ایف) نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ کو یکم جولائی 2019 کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ راناثنا کا موقف ہے کہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ منشیات برآمدگی کے ثبوت بھی عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔
اے این ایف حکام کے مطابق رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات کی بھاری مقدار برآمد ہوئی اور کے خلاف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ انسداد منشیات فورس کے ذرائع کے مطابق منشیات کے اسمگلر نے تفتیش میں ن لیگی رہنما کا نام لیا تھا۔
رانا ثناء اللہ کی لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست منظور کی تھی،جس کے بعد سپریم کورٹ میں راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائرکر دی گئی،راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست نےاے این ایف نےدائر کی،ضمانت منسوخی کی درخواست 17 صفحات پر مشتمل ہے ،
رانا ثناء اللہ کی ضمانت منظور، رانا کی اہلیہ اور ن لیگی رہنماؤں نے بڑے سوالات اٹھا دیئے
رانا ثناء اللہ ایک بار پھرمشکل میں پھنس گئے، حکومت نے اب کیا کیا؟ جان کر ہوں حیران
رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کوجیل سے لکھا خط، کیا کہا؟
رانا ثناء اللہ کی ضمانت، شہر یار آفریدی میدان میں آ گئے، بڑا اعلان کر دیا
منشیات کیس، رانا ثناء اللہ پر کب ہو گی فرد جرم عائد؟
واضح رہے کہ منشیات کیس میں رانا ثناء اللہ چھ ماہ کے بعد رہا ہوئے تھے ،منشیات کیس میں رہائی پانے والے رکن قومی اسمبلی ،مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اس مقدمے کا کوئی سر اور پاؤں نہیں ہے۔ جن حالات میں مجھے جیل میں رکھا گیا، اس کا ذکر نہیں کروں گا۔ میری چھ ماہ بعد ضمانت ہوئی لیکن پورا انصاف نہیں ہوا۔ جن لوگوں نے جھوٹا مقدمہ درج کرایا اللہ کا قہر اور غضب ان پہ نازل ہو ، اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پہ اللہ کا قہر اور غضب نازل ہو
