اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستوں کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ تبادلہ نئے سال 2026 کے آغاز پر طے شدہ سفارتی روایات کے مطابق عمل میں آیا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یکم جنوری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی تحویل میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی حکام کے حوالے کی، جبکہ بھارتی وزارت خارجہ نے بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو فراہم کی،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلے کا مقصد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قیدیوں کے معاملات کو شفاف بنانا اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے محدود مگر اہم سفارتی چینلز کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قیدیوں، خصوصاً خواتین، بچوں اور ذہنی یا جسمانی طور پر بیمار قیدیوں کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر اقدامات کی حمایت کرتا رہا ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے مزید بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی یکم جنوری کو کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت ہر سال باقاعدگی سے کیا جاتا ہے، جس کا مقصد حساس تنصیبات کے حوالے سے اعتماد سازی اور کسی بھی ممکنہ غلط فہمی سے بچاؤ ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق جوہری تنصیبات سے متعلق یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 31 دسمبر 1988 کو طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو ایک دوسرے کو اپنی جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستیں فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں جوہری استحکام اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم اعتماد سازی اقدام سمجھا جاتا ہے،
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے جاری علاقائی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور یمن کے تنازعے کے پُرامن حل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس ضمن میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کو ناگزیر سمجھتا ہے،ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک الگ ملک تسلیم کرنے کے کسی بھی اقدام کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور وحدت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق صومالیہ کے مسئلے کے حل کا حامی ہے،دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان خطے اور دنیا بھر میں تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ہی پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔
