اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون سار نے متنازع صومالی لینڈ کا دورہ کیا ہے، جو اسرائیل کی جانب سے اس علیحدگی پسند خطے کو تسلیم کیے جانے کے بعد کسی اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
صومالی لینڈ کی حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق گیڈیون سار کی قیادت میں اسرائیلی وفد دارالحکومت ہرگیسا پہنچا، جہاں اعلیٰ سرکاری حکام نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ نے صومالی لینڈ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ امور پر بات چیت کی۔
اسرائیل نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد وہ اس خطے کو تسلیم کرنے والا دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے۔
گیڈیون سار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صومالی لینڈ کے صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی دعوت قبول کر لی ہے اور وہ جلد اسرائیل کا سرکاری دورہ کریں گے۔
دوسری جانب صومالیہ کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز گیڈیون سار کے ہرگیسا دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ صومالیہ کی رضامندی کے بغیر کسی بھی قسم کی سرکاری سرگرمی غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے۔
صومالیہ نے اقوام متحدہ، افریقی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کریں۔
واضح رہے کہ صومالی لینڈ کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ خلیج عدن کے ساحل پر واقع ہونے کے باعث یہ علاقہ اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور اس کی اپنی کرنسی، پاسپورٹ اور سیکیورٹی فورسز موجود ہیں۔
اسرائیل کے اس فیصلے پر متعدد افریقی ممالک اور مسلم اکثریتی ریاستوں نے بھی شدید تنقید کی ہے اور اسے صومالیہ کی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کے صومالی لینڈ دورے پر صومالیہ کی شدید مذمت
