غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم بھارتی سکھ خاتون سربجیت کور کو گزشتہ روز بھی واہگہ بارڈر کے راستے بھارت ڈی پورٹ کرنے کے لئے دستاویزات مکمل نہیں ہوسکیں جس کے بعد سربجیت کور کو شیلٹر ہاوس منتقل کر دیا گیا۔ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ذرائع کے مطابق سربجیت کور کو لینے کیلئے اس کے خاندان کے افراد گزشتہ روز بھی اٹاری بارڈر پہنچے لیکن شام کو مایوس واپس لوٹ گئے۔ سربجیت کور، جو پنجاب کے ضلع کپور تھلہ کی رہائشی ہے، نومبر 2025 میں گورو نانک دیو جی کی 556ویں جنم سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں سکھ یاتریوں کے ایک بڑے جتھے کے ساتھ پاکستان آئی تھی۔ اس کا ویزہ 13 نومبر 2025 کو ختم ہو گیا تھا لیکن وہ بھارت واپس نہیں گئی۔ پاکستان میں قیام کے دوران اس نے اسلام قبول کیا اور پاکستانی شہری ناصر حسین سے نکاح کرنے کے بعد اپنا نام نور حسین رکھ لیا۔ 4 جنوری کو ننکانہ صاحب کے قریب پہرے والی گاؤں سے پولیس نے سربجیت کور اور ان کے شوہر ناصر حسین کو گرفتار کر لیا اور سربجیت کور کو بھارت ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر اور پنجاب کے وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے اس کی تصدیق کی ہے کہ ویزہ قوانین کی خلاف ورزی پر سربجیت کو ڈی پورٹ کیا جائے گا۔ 5 جنوری کو ایف آئی اے حکام نے اسے واہگہ بارڈر تک پہنچایا جہاں ڈی پورٹیشن کی تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ تاہم آخری لمحے اسے بھارت بھیجنے کا عمل روک دیا گیا۔دریں اثنا پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ سردار مہیندرپال سنگھ نے جنگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے سربجیت کور کو ڈی پورٹ کرنے کی دستاویزات مکمل کر لی گئی ہیں اور اب سربجیت کور کو ائند دو روز تک بھارت واپس بھیج دیا جائے گا۔
نومسلم سربجیت کور کی بھارت ڈیپورٹیشن میں رکاوٹ؛ ایک دو روز میں واپسی کا امکان
