ہر عہد اپنے ساتھ کچھ سوالات لاتا ہے اور ہر نسل ان سوالات کے جواب اپنی جدوجہد سے دیتی ہے۔ آج سے چودہ برس قبل، جب ڈیجیٹل افق پر امکانات کی کہکشاں تو روشن تھی مگر سمتیں دھندلی تھیں، صحافت کے مروجہ ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے لیے ایک "باغی” آواز نے جنم لیا۔ یہ باغی ٹی وی تھا، جس کا نام فقط ایک شناخت نہیں، بلکہ ایک مکمل منشور تھا ایک ایسا عہد جو طاقت کے مراکز میں گونجنے والے شور کے برعکس، بےآوازوں کی آواز بننے کے لیے باندھا گیا تھا…
چودہ سال کا عرصہ کسی ادارے کی زندگی میں ایک اہم سنگِ میل ہوتا ہے، لیکن باغی ٹی وی کے لیے یہ محض گنتی کے سال نہیں، بلکہ جبر کے سامنے حرفِ انکار بلند کرنے اور سچائی کو ہر مصلحت پر مقدم رکھنے کی ایک مسلسل داستان ہے.. سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے نے جس راستے کا انتخاب کیا، وہ پھولوں کی سیج نہیں تھی۔ یہ وہ خارزار وادی تھی جہاں ہر قدم پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں، اور کردار کشی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن باغی ٹی وی نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے، ہر دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ اس کا سفر اس نظریے کا عملی ثبوت ہے کہ صحافت محض خبر رسانی کا نام نہیں، بلکہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنے اور ظلم کے خلاف فکری مزاحمت کا ایک مقدس فریضہ ہے..
باغی ٹی وی کا فلسفہ اس یقین پر قائم ہے کہ حقیقی صحافت وہ ہے جو ریاست کے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہو… اس کا مقصد صرف سیاسی اتار چڑھاؤ کا احاطہ کرنا نہیں، بلکہ ان ثقافتی، سماجی اور اخلاقی اقدار کا دفاع کرنا بھی ہے جو کسی قوم کی شناخت ہوتی ہیں۔ اردو، انگریزی، پشتو جیسی زبانوں میں نشریات کا آغاز صرف ایک کاروباری توسیع نہیں، بلکہ ایک گہری فکری سوچ کا نتیجہ ہے ایک ایسی کوشش جس کا مقصد پاکستان کا مقدمہ عالمی ضمیر کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ ہم صرف خبروں کا موضوع نہیں، بلکہ ایک زندہ اور توانا تہذیب کے امین ہیں۔
مبشر لقمان اور ان کی ٹیم نے باغی ٹی وی کوایک تحریک بنا دیا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ان موضوعات پر بھی بات ہوئی جنہیں روایتی میڈیا میں ممنوع سمجھا جاتا تھا۔ یہ ادارہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جب ارادے نیک اور عزم پختہ ہو تو وسائل کی کمی اور حالات کی سختی راستہ نہیں روک سکتی۔ یہ امید کی وہ کرن ہے جو بتاتی ہے کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی سچ کا چراغ روشن رکھا جا سکتا ہے۔آج، جب باغی ٹی وی اپنی چودھویں سالگرہ منا رہا ہے، تو یہ جشن صرف ایک ادارے کی کامیابی کا نہیں، بلکہ اس نظریے کی فتح کا ہے کہ حرف کی حرمت ہر دور میں قائم رہتی ہے۔ یہ ان تمام گمنام صحافیوں، نمائندوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین ہے جو اس قافلے کا حصہ بنے اور مشکلات کے باوجود اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔
ہماری دعا ہے کہ باغی ٹی وی کا یہ سفر اسی جرأت اور استقامت کے ساتھ جاری رہے۔ یہ ادارہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بن کر ابھرے اور ثابت کرے کہ جب ایک قوم اپنے نظریات کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو کوئی طوفان اس کے چراغ بجھا نہیں سکتا۔.
