Baaghi TV

عوامی مسائل پر خیبر پختو نخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں ،وزیراعظم کے سامنے اراکین پھٹ پڑے

pm

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندگان نے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا کی مجموعی سیاسی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور گورننس سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل کا مکمل ادراک ہے اور وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے تحت ان مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔خیبر پختو نخوا میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کا حل وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

شرکا نے بتایا کہ خیبر پخونخوا کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے. گورننس نام کی کوئی چیز نہیں. صحت، تعلیم، انفرا سٹرکچر، اور عوامی فلاح کے حوالے سے خیبر پختونخوا کی حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی موجود نہیں. عوامی مسائل پر خیبر پختو نخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں ھے ،وزیراعظم نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ہری پور میں پورے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات میں میرٹ پر لیپ ٹاپ تقسیم کئے. ان نوجوانوں سے مل کر خوشی ہوئی اور یہی نوجوان پاکستان کا مستقبل کا اثاثہ ہیں. ان نوجوانوں کے لئے آیندہ بھی میرٹ پر لیپ ٹاپ دینے کی پالیسی جاری رہے گی تاکہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں.

وزیر اعظم نے خیبر پختونخواہ میں وفاق کے زیر اہتمام ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جو کہ پشاور کا دورہ کرے گی اور عوامی نمائندگان سے مل کر ان منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لے گی. ملاقات میں ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناللہ، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، بابر نواز ایم این اے، ثمر بلور ایم این اے، اختیار ولی (کوآرڈینیٹر وزیراعظم)، مرتضیٰ جاوید عباسی سابق ڈپٹی اسپیکر، زاہد خان سابق سینیٹر، ڈاکٹر عباداللہ ایم پی اے، پیر صابر شاہ، سردار مشتاق سابق ایم این اے، شاہ جی گل آفریدی سابق ایم این اے، شہاب الدین خان رحمت سلام خٹک اور بہرہ مند تنگی موجود تھے۔

More posts