امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے بعد جرمنی اور فرانس نے ان کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے پیر کے روز کہا کہ برلن اور پیرس اس ہفتے برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے 27 رہنماؤں کے اجلاس سے قبل امریکی ٹیرف دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے باہمی مشاورت کریں گے۔ ان کے مطابق مقصد ایک ایسا مشترکہ مؤقف طے کرنا ہے جو یورپی یونین کی سطح پر اختیار کیا جا سکے۔
اتوار کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دفتر نے یورپی یونین پر زور دیا تھا کہ وہ بلاک کے انسدادِ جبر ضابطے کو فعال کرے، جسے غیر رسمی طور پر ’’ٹریڈ بزوکا‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ضابطہ یورپی یونین کو بیرونی تجارتی دباؤ کے خلاف سخت جوابی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔
تاہم جرمنی، جو امریکا کے ساتھ تجارت پر فرانس کے مقابلے میں زیادہ انحصار کرتا ہے، اب تک واشنگٹن کے خلاف فوری اور سخت ردِعمل سے گریز کرتا رہا ہے۔ پولیٹیکو یورپ کے مطابق فریڈرک مرز نے کہا کہ امریکی ٹیرف سے فرانس نسبتاً زیادہ متاثر ہوا ہے، اسی لیے فرانسیسی حکومت اس معاملے پر زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک ایک مشترکہ حکمتِ عملی پر متفق ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مرز نے واضح کیا کہ جرمنی کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا اور اسی تناظر میں وہ بدھ کے روز ڈیوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو یورپی یونین جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے اور تمام آپشنز کھلے رکھے جائیں گے۔
دوسری جانب جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف سے متعلق دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں۔ فرانسیسی صدر نے بھی یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ اگر امریکا اضافی محصولات عائد کرتا ہے تو بلاک کو متحد ہو کر جواب دینا چاہیے۔
یورپی کمیشن کے ترجمان کے مطابق امریکی ٹیرف دھمکیوں پر رکن ممالک کے ساتھ مشاورت جاری ہے، اور یورپی یونین اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔
امریکی ٹیرف کے خلاف برلن اور پیرس کا مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر اتفاق
