Baaghi TV

ٹرمپ امن بورڈ ، امید، خدشات اور عالمی سیاست،تجزیہ: شہزاد قریشی

qureshi

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیا گیا ’’ٹرمپ امن بورڈ‘‘ عالمی سیاست میں ایک نیا اور غیر روایتی اقدام ہے، جس میں مختلف ممالک کی شمولیت نے بین الاقوامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔ اس فورم کو بظاہر غزہ سمیت دیگر تنازعات میں جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس اقدام کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ طویل عرصے سے جاری خونریزی اور عدم استحکام کے شکار خطوں میں امن کی کوششوں کے لیے ایک نیا مکالمہ شروع ہوا ہے۔ اگر مختلف ممالک خلوصِ نیت کے ساتھ اس فورم کے ذریعے عملی اقدامات کریں، انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں اور متاثرہ عوام کی آواز کو سنا جائے تو یہ کوشش قابلِ ستائش قرار دی جا سکتی ہے۔

تاہم، اس کے ساتھ سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے پہلے ہی امن، ثالثی اور انسانی حقوق کے لیے موجود ہیں۔ ایسے میں ایک نیا بورڈ کہیں بین الاقوامی اتفاقِ رائے کو تقسیم نہ کر دے۔ مزید یہ کہ بعض بڑی عالمی طاقتوں اور یورپی ممالک کی عدم شمولیت اس فورم کی عالمی ساکھ اور مؤثریت پر سوالیہ نشان ہے۔

اصل کسوٹی یہ نہیں کہ کتنے ممالک اس بورڈ میں شامل ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ فورم عملی طور پر جنگ بندی، انصاف پر مبنی حل اور متاثرہ عوام کی بحالی میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ پلیٹ فارم محض سفارتی بیانات، سیاسی مفادات یا طاقت کے توازن تک محدود رہا تو امن ایک بار پھر ایک نعرہ ہی بن کر رہ جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں امن کو سیاسی برتری کا ہتھیار بنانے کے بجائے انسانیت کے مشترکہ مقصد کے طور پر اپنائیں۔ ٹرمپ امن بورڈ اسی صورت میں کامیاب کہلائے گا جب وہ طاقت کے بجائے انصاف، مفاد کے بجائے انسان اور سیاست کے بجائے پائیدار امن کو ترجیح دے۔

More posts