Baaghi TV

بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا ٹیکسٹائل ملز غیر معینہ مدت کیلیے بند کرنے کا اعلان

ڈھاکا: بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (بی ٹی ایم اے) نے حکومت کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر وزارتِ تجارت کی سفارشات پر عمل نہ کیا گیا تو ملک بھر کی تمام اسپننگ ملز یکم فروری 2026 سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائیں گی۔

یہ انتباہ جمعرات کو ڈھاکا کے علاقے کاروان بازار میں واقع بی ٹی ایم اے کے دفتر میں منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران دیا گیا، جس کی صدارت بی ٹی ایم اے کے صدر شوکت عزیز رسل نے کی۔بی ٹی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ سات دن کے اندر درآمدی دھاگے (یارن) پر دی گئی بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت واپس نہ لی گئی تو بنیادی ٹیکسٹائل شعبہ شدید بحران کا شکار ہو جائے گا اور ملز کی سرگرمیاں جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ملز کی بندش کے نتیجے میں اگر مزدوروں میں بے چینی یا احتجاج پیدا ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔بی ٹی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ “اگر اس صورتحال کے باعث بینکاری اور مالیاتی نظام میں عدم استحکام پیدا ہوا تو اس کی بھی پوری ذمہ داری حکومت کو قبول کرنا ہو گی۔”

ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ 30 دنوں کے دوران ملک کی بیشتر اسپننگ ملز صرف 50 فیصد پیداواری استعداد پر کام کر رہی ہیں، جس کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کو 12 ہزار سے 15 ہزار کروڑ ٹکہ تک کا نقصان ہو چکا ہے۔بی ٹی ایم اے کا کہنا ہے کہ شدید مالی دباؤ کے باعث مل مالکان کے لیے بینک قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی ممکن نہیں رہی، جس سے پورے مالیاتی نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔شوکت عزیز رسل نے صورتحال کو ٹیکسٹائل صنعت کے لیے “ہنگامی حالت” قرار دیتے ہوئے کہا “ٹیکسٹائل شعبہ ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 13 فیصد حصہ ڈالتا ہے، مگر عبوری حکومت ہمارے مسائل سننے کے لیے 13 منٹ بھی نہیں نکالتی۔”انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت مسئلہ حل کرنے کے بجائے ذمہ داری ایک وزارت سے دوسری وزارت کو منتقل کر رہی ہے۔

بی ٹی ایم اے رہنماؤں نے بتایا کہ اس معاملے پر بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (بی جی ایم ای اے) سے بھی بات چیت کی گئی ہے، جس میں گارمنٹس سیکٹر نے اسپننگ انڈسٹری کے بحران کی سنگینی اور اس کے ملبوسات کی پوری ویلیو چین پر منفی اثرات کو تسلیم کیا ہے۔بی ٹی ایم اے کے مطابق بی جی ایم ای اے نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت کے تحت سستے درآمدی دھاگے پر انحصار ملکی اسپنرز کو کمزور کر رہا ہے، بیک ورڈ لنکیج انڈسٹری کو نقصان پہنچا رہا ہے اور طویل المدت بنیادوں پر خود گارمنٹ ایکسپورٹرز کے لیے سپلائی رسک بڑھا رہا ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملکی اسپننگ ملز ملک کی 50 سے 70 فیصد یارن کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم اگر یہ صلاحیت ختم ہوئی تو گارمنٹ صنعت کو درآمدات پر مزید انحصار، طویل ڈیلیوری ٹائم اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔بی ٹی ایم اے نے واضح کیا کہ اسپنرز اور گارمنٹ ایکسپورٹرز کے درمیان یہ کوئی تنازع نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے مربوط ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے نظام کے تحفظ کا اسٹریٹجک معاملہ ہے۔

بی ٹی ایم اے رہنماؤں نے بتایا کہ وزارتِ تجارت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد 10، 20 اور 30 کاؤنٹ یارن کی درآمد پر دی گئی بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت واپس لینے کی سفارش کی تھی، جو HS کوڈز 52.05، 52.06 اور 52.07 کے تحت آتی ہے، اور اس پر عملدرآمد کے لیے 30 ورکنگ ڈیز کی مدت تجویز کی گئی تھی۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ پالیسی میں مزید تاخیر کے نتیجے میں ملز کی بندش، روزگار کے مواقع کا خاتمہ، قرضوں کی عدم ادائیگی اور مالی دباؤ میں تیزی آئے گی۔بی ٹی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزارتِ تجارت کی سفارشات پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ ملکی ویلیو ایڈیشن، صنعتی استحکام، روزگار کے تحفظ اور معیشت کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔

More posts