گزشتہ کئی دہائیوں سے5 فروری کو یوم کشمیر تعلیمی اداروں میں تقاریر ، سیمینارز ، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پرجوش بیانات ، ہوا میں اڑتے غبار ے، ہاتھوں پلے کارڈز اٹھا کر منایا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ” کشمیر بنے گا پاکستان ” اور اسکے ساتھ یہ بھی کہ اقوام متحدہ ،دیگر سلامتی کونسلز اس معاملہ کو ختم کر وا سکتے ہیں جبکہ
تاریخ کے باب کھول کر دیکھ لیں تمام عظیم تر فتوحات اہل ایمان کو تلوار کے زور پر حاصل ہوئیں۔ نہ کہ غبارے اڑا کر یا کفار کی کمیٹیوں سے امیدیں وابستہ کر کے یہہی وجہ ہے کہ آج کئی برس بیت گئے مگر سر زمین کشمیر کا ایک انچ بھی فتح نہیں ہو سکا۔ ہمارے کشمیری بہن بھائیوں پر کافروں کے ظلم وبربریت کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جو ناقابل بیان ہے ۔
