Baaghi TV

مودی سرکار مسلمانوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا

نئی دہلی: ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی مسلم دشمنی کو ناقدین ایک منظم ریاستی پالیسی قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق نام نہاد جمہوری دعوؤں کے برعکس مودی سرکار مسلمانوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ریاست آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمنت بسوا کو مسلمانوں کی تصاویر پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں دیوار پر نصب تصویر پر No mercy یعنی "کوئی رحم نہیں” کے الفاظ بھی درج تھے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ آسام کے اقدام کو "نسل کشی کی دعوت” قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ آسام کی ویڈیو کو محض سوشل میڈیا مواد سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس سے قبل بھی آسام کے وزیرِ اعلیٰ پر اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور عوام کو ان کے خلاف اکسانے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی قیادت دانستہ طور پر مذہبی نفرت کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور حکمران جماعت کی سرپرستی میں نفرت انگیز بیانیے کا براہِ راست نشانہ بھارت کی مسلم اقلیت بن رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس بھارتی سیاست میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی واضح مثال ہیں۔

More posts