Baaghi TV

آج کے طلبہ و طالبات: باادب یا بےادب؟تحریر:کامران ہاشمی، کرک

school

اکثر کہا جاتا ہے کہ آج کے طلبہ و طالبات بےادب ہو گئے ہیں
مگر حقیقت یہ ہے کہ طالبِ علم نہیں بدلے، ہمارا رویہ اور طریقۂ تربیت بدل گیا ہے۔
میں نے اپنے 16 سالہ تعلیمی سفر میں اور تین سالہ تجربے میں وہ وقت بھی دیکھا ہے
جب طلبہ و طالبات اساتذہ کے سامنے ادب سے پیش آتے تھے
اور استاد کو والدین، بڑی بہن، بڑے بھائی اور رہنما کا درجہ حاصل تھا۔وہ ادب خوف سے نہیں بلکہ استاد کے کردار، وقار اور انصاف کا نتیجہ تھا۔
تعلیم میں یا تو صرف پیسہ کمایا جاتا ہے یا عزت اور جو استاد عزت کماتا ہے وقت اس کے لیے راستے خود بنا دیتا ہے۔
طلبہ و طالبات کو صرف فیس یا رول نمبر نہ سمجھیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور امانت جانیں۔ان کی بات سنیں نہیں سمجھیں۔ انہیں ڈرا کر نہیں، سمجھا کر سکھائیں۔نصاب کے ساتھ نصیحت بھی دیں،اور انہیں عزت دیں تاکہ وہ اعتماد سیکھیں۔

یاد رکھیں، جو عزت پاتا ہے، وہی عزت کرنا سیکھتا ہے۔آج کے طلبہ و طالبات بگڑے ہوئے نہیں وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ناکامی کا خوف، غلط راستے کا ڈر، نفسیاتی دباؤ، مالی عدم تحفظ اور احساسِ کمتری۔
ایک استاد کا اصل امتحان،ان خوفوں کو بڑھانا نہیں، کم کرنا ہے۔انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ادارہ اور استاد ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔طالبِ علم کو ڈانٹ کر نہیں،سمجھا کر سنوارا جاتا ہے۔حکم دے کر نہیں رہنمائی دے کر مضبوط بنایا جاتا ہے۔ایک استاد صرف مضمون نہیں پڑھاتا وہ کردار بناتا اور مستقبل سنوارتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ و طالبات باادب، بااعتماد اور باکردار ہوں ۔ تو ہمیں پہلےباوقار استاد اور ذمہ دار رہنما بننا ہوگا۔

More posts