بسنت کو ہم بہار کی خوشی، روایت اور تہوار کا نام دیتے ہیں، مگر جب اسی بسنت کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، دکھاوا اور بے حسی سامنے آتی ہے تو دل سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ تہوار ہے یا کھلی فضول خرچی؟
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کرتی رہی جس میں طنز کے پیرائے میں اس مقروض قوم کے “بسنت پیکجز” پیش کیے گئے۔ نام تھا “شاہ بسنت مینجمنٹ (SBM)”اور پیکجز کے نرخ ایسے کہ آدمی مہنگائی، قرض اور غربت سب ایک ساتھ بھول جائے۔ کہیں ڈائمنڈ کلاس بسنت پیکج پچیس لاکھ روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جہاں کشادہ چھت، دن رات کی ضیافتیں، ڈھول، رقص، سینکڑوں پتنگیں اور ہزاروں میٹر ڈور شامل ہیں۔ کہیں گولڈ اور سلور کلاس کے نام پر لاکھوں روپے کی بسنت، اور کہیں نام نہاد ‘غریب نواز پیکج’ بھی تین لاکھ روپے سے کم نہیں۔
طنز یہ ہے کہ جس قوم کے بچے تعلیم، علاج اور دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں، وہ قوم بسنت کے نام پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ ایک طرف قرض، بجلی کے بل، مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا ہے، اور دوسری طرف جرمن پیپر کی پتنگیں، برما کے بانس، پلاٹینئیم مانجھا اور سیاسی نعروں والی گڈیاں۔ یہ سب محض ایک مذاق یا تحریر نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویے کا آئینہ ہے۔ ہم خوشی منانے کے نام پر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی رنگوں کے پیچھے کتنی جانیں جاتی ہیں، کتنے گھر اجڑتے ہیں، کتنے باپ اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھاتے ہیں، اور کتنی مائیں بسنت کے بعد خاموش ہو جاتی ہیں۔
میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ بسنت کے نام پر بنائے گئے یہ تمام پیکجز حقیقت میں اسی طرح موجود ہیں یا واقعی اتنی بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور پوشیدہ ہے، کیونکہ یہ ہمارے معاشرتی رویوں سے بالکل مختلف نہیں۔روز بروز بڑھتی بے روزگاری، بھوکے خاندانوں میں اضافہ، اور فاقوں سے تنگ آ کر ہونے والی خودکشیاں،یہ سب خبریں اب سنائی نہیں دیتیں، دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں بھوک سے عاجز آ کر کوئی اپنی جان لے لیتا ہے، کہیں ماں باپ بچوں کو زہر دے کر خود بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ کہیں غریب ہسپتال میں علاج کے اخراجات کے بوجھ تلے ہار مان لیتا ہے، اور کہیں بچے علاج کے انتظار میں دم توڑ دیتے ہیں۔
ایسے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسی ملک کے باسی بسنت کے نام پر لاکھوں روپے پتنگوں اور ڈور پر اڑا دیتے ہیں تو یہ محض فضول خرچی نہیں، بلکہ اجتماعی بے حسی کا کھلا اظہار بن جاتی ہے۔ وہی پیسہ کسی غریب کے گھر کا سال بھر کا راشن بن سکتا تھا، کسی کے بچوں کی پوری سال کی اسکول فیس ادا ہو سکتی تھی، کئی غریب بچیوں کی شادیاں ہو سکتی تھیں۔
رمضان المبارک چند دن کی دوری پر ہے۔ یہی لوگ اگر چاہیں تو سفید پوش گھرانوں میں راشن پہنچا سکتے تھے تاکہ روزے آسانی سے گزر سکیں، مگر ترجیح پھر بھی تفریح، نمود و نمائش اور فضول خرچی ہی ٹھہرتی ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بسنت صرف ایک تہوار ہے یا ایک معاشرتی مظہر جس میں ہم اپنی ترجیحات، اخلاق اور انسانی ہمدردی کا امتحان لیتے ہیں؟ کیونکہ اگر واقعی ہم خوشی منانے کے لیے اتنی رقم خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ضرورت مندوں کے لیے اتنی محنت کیوں نہیں کی جاتی؟
اگر واقعی اس ملک کے لوگ اتنے امیر ہیں کہ بسنت کے نام پر لاکھوں روپے صرف پتنگوں اور ڈور پر خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ہر چوک پر بے روزگار کیوں نظر آتے ہیں؟ ہر محلے میں بھیک مانگتے ہاتھ کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ زکوٰۃ کے راشن کی تقسیم کے وقت لمبی قطاریں کیوں لگتی ہیں؟ یا جب ہمارے نوجوان، روزگار کے لیے ہونڈی کے ذریعے دوسرے ملک جانے نکلیں تو بے رحم پانی میں کشتی الٹ جانے سے اپنی زندگی گنوا دیتے ہیں، تب بھی کسی کے دل پر یہ رقم خرچ کرنے کا سوال کیوں نہیں آتا؟
یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ جب کوئی ضرورت مند مدد کے لیے دستک دیتا ہے تو یہی فضول خرچی کرنے والے لوگ مدد کے وقت حساب کتاب میں پڑ جاتے ہیں۔ بڑی سوچ بچار کے بعد کوئی دو ہزار، کوئی پانچ یا دس ہزار دے کر ایسے دیکھتا ہے جیسے اس نے لاکھوں کی خیرات کر دی ہو—حالانکہ انہی ہاتھوں سے کچھ دن پہلے لاکھوں روپے پتنگوں کی نذر کر دیے گئے ہوتے ہیں۔
یہاں بسنت کے نام پر ہونے والی یہ فضول خرچی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ہماری ترجیحات کہاں کھو گئی ہیں۔ ایک طرف قرض، بل اور روزگار کی جدوجہد ہے، اور دوسری طرف چند خوش قسمتوں کے لیے دن رات کی ضیافتیں، ہزاروں میٹر ڈور اور لاکھوں روپے کی پتنگیں۔ یہ تضاد ہمارے سماجی شعور پر ایک واضح سوال چھوڑ دیتا ہے: ہم واقعی کس کے لیے اور کس مقصد کے لیے خوشی مناتے ہیں؟
اصل سوال یہی ہے کہ
کیا مسئلہ وسائل کی کمی ہے،
یا احساس کی کمی؟
یہ مضمون ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خوشی منانے کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، اگر سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ استعمال کی جائے، تو کتنا بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔ کسی غریب بچے کی تعلیم مکمل ہو سکتی ہے، کسی بیمار کی زندگی بچائی جا سکتی ہے، اور کسی خاندان کے چہروں پر مسکراہٹ آ سکتی ہے۔ بسنت کے نام پر اڑائے جانے والے کروڑوں روپے، اگر معاشرتی بھلائی کے لیے خرچ ہوں، تو شاید یہی اصل خوشی ہو، جس کی ہمیں تلاش ہے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—
بسنت خوشی کا تہوار ہے،
یا ایک ایسی فضول خرچی
جو ہر سال ہماری توجہ اور ہمدردی کی کمی کو سامنے لے آتی ہے۔
اور اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ خوشی سب کے لیے خوشی بنے،
تو بسنت کے رنگوں کے ساتھ اپنے اعمال اور ترجیحات بھی رنگیں ہونا ضروری ہیں
