بنگلہ دیش اپنے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے،آج ملک بھر میں انتخابات ہوں گے اور سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار انتخابی معرکے کا مرکز روایتی جماعتی اتحاد یا انتخابی مشینری نہیں بلکہ دو طاقتور سماجی طبقات ہوں گے، جین زی (Gen-Z) ووٹرز اور خواتین۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دونوں طبقات مل کر نہ صرف ووٹرز کی عددی اکثریت بناتے ہیں بلکہ ایک نسبتاً خودمختار اور بااثر ووٹ بینک کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جو ملکی سیاست کے روایتی توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 127.7 ملین ہے۔ان میں سے 50 ملین ووٹرز کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان ہے۔تقریباً 40 ملین ووٹرز 18 سے 29 سال کی عمر کے ہیں، جو خالصتاً جین زی کی نمائندگی کرتے ہیں۔رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 62 ملین سے زائد ہے، جو مرد ووٹرز کے تقریباً برابر ہے۔تقریباً 10 ملین شہری پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔خواتین ووٹرز میں سے 26.7 ملین کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ نوجوان اور خواتین ووٹرز مل کر ایک ایسی انتخابی طاقت بن چکے ہیں جو قریبی مقابلوں میں نتائج کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔سیاسی جماعتیں اس تبدیلی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ کئی امیدوار نجی محفلوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ جب تک انہیں خواتین اور جین زی ووٹرز کے رجحان کا اندازہ نہ ہو، فتح کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔
2024 کی عوامی تحریک میں کلیدی کردار ادا کرنے والی نسل اب پہلی بار تحریک کے بعد ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈال رہی ہے۔ سیاسی مبصرین اسے سڑکوں کی سیاست سے ادارہ جاتی سیاست کی جانب منتقلی قرار دے رہے ہیں۔ڈھاکا کے ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق “یہ انتخاب مختلف ہے کیونکہ جس نسل نے سیاسی نظام کو ہلایا، اب وہی فیصلہ کرے گی کہ حکومت کس کی ہوگی۔”ماضی میں نوجوان ووٹر اکثر خاندانی وابستگی یا جماعتی اثر کے تحت ووٹ دیتے تھے، مگر اس بار صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جین زی ووٹرز زیادہ تر گورننس کے معیار، بدعنوانی کے خاتمے، روزگار کے مواقع اور شہری آزادیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سیاسی کارکنان تسلیم کرتے ہیں کہ نوجوان ووٹرز کی غیر متوقع صف بندی نے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا ہے۔ سول سوسائٹی نمائندگان کا کہنا ہے کہ جین زی ووٹر اس جماعت کا ساتھ دے سکتے ہیں جو انہیں استحکام اور ذاتی سلامتی کی ضمانت دیتی نظر آئے۔
اگر جین زی نسلی تبدیلی کی علامت ہے تو خواتین ووٹرز ایک ساختی سیاسی تبدیلی کی نمائندگی کر رہی ہیں۔62 ملین سے زائد خواتین ووٹرز کی موجودگی اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس بار اصل تبدیلی ان کی فیصلہ سازی میں خودمختاری ہے۔راجشاہی کے گوڈاگری،تانور حلقے میں، جو ماضی میں بی این پی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، ڈھاکا سے ووٹ ڈالنے واپس آنے والی ملازمت پیشہ خواتین نے سیاسی شعور میں نمایاں تبدیلی کا اظہار کیا۔سوروی اختر نے کہا “ہم کافی عرصے بعد ڈھاکا سے ووٹ ڈالنے آئے ہیں۔ مجھے لگتا ہے خواتین اب خود فیصلہ کر رہی ہیں، یہ نیا احساس ہے۔”مقامی سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے ابو طاہر کے مطابق “میں نے ہمیشہ دیکھا کہ خواتین مردوں سے مشورہ کر کے ووٹ دیتی تھیں۔ اس بار وہ اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں، اس سے پورا حساب بدل جاتا ہے۔”زمینی سطح پر امیدوار خواتین ووٹرز، خاص طور پر محنت کش طبقے کی خواتین کو سب سے اہم سوئنگ بلاک قرار دے رہے ہیں۔
اہم سیاسی جماعتوں بی این پی، جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی نے اپنے منشور میں خواتین سے متعلق وعدوں کو نمایاں جگہ دی ہے۔بی این پی کے وعدوں میں خواتین کے لیے “فیملی کارڈ”،پوسٹ گریجویٹ سطح تک مفت تعلیم،خواتین سپورٹ سیلز،ڈے کیئر مراکز،بریسٹ فیڈنگ کارنرز،خواتین کے لیے کاروباری پروگرامز شامل ہیں،جماعت اسلامی کے وعدوں میں قومی خواتین تحفظ ٹاسک فورس،اندرون و بیرون ملک خواتین کے لیے محفوظ اور باعزت روزگار کی ضمانت شامل ہے،این سی پی کے وعدوں میں ایوانِ زیریں کی 100 مخصوص نشستوں پر خواتین کے لیے براہِ راست انتخابات شامل ہیں،تاہم، سول سوسائٹی میں شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔“وی کین” کی کوآرڈینیٹر جنیّت آرا حق کا کہنا ہے “خواتین ہمیشہ فیصلہ کن رہی ہیں، مگر ان منشوروں میں سنجیدہ تحقیق اور عملدرآمد کا واضح خاکہ موجود نہیں۔”
سوشل میڈیا پر “بیلٹ سے جواب دیں” کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ بعض متنازع بیانات کے بعد گیارہ خواتین تنظیموں نے الیکشن کمیشن کو یادداشت پیش کر کے ایک امیدوار کی نااہلی کا مطالبہ کیا۔سیاسی کارکن مشرفہ مشو نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔کارکن مرزیہ پرووا کا کہنا ہے میں چاہتی ہوں خواتین زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالیں اور بیلٹ کے ذریعے جواب دیں۔
بنگلہ دیش میں آبادیاتی رجحانات نوجوانوں اور خواتین کے حق میں جا رہے ہیں۔ اگر جین زی 2024 کی اصلاحی توانائی کو بیلٹ بکس تک لے آئی اور خواتین نے بڑی تعداد میں خودمختار فیصلے کیے تو 2026 کا انتخابی نقشہ ماضی سے مختلف ہو سکتا ہے۔یہ بیلٹ پیپر صرف حکومت کا تعین نہیں کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ آیا بنگلہ دیش میں ایک نئی سیاسی ثقافت نے واقعی جڑ پکڑ لی ہے یا نہیں۔
