Baaghi TV

بنگلہ دیش انتخابات،پولنگ اسٹیشن پر دھماکا،3 افراد زخمی

بنگلادیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے جاری ووٹنگ کے دوران ضلع گوپال گنج کے ایک پولنگ اسٹیشن پر دستی بم دھماکے سے کم از کم تین افراد زخمی ہو گئے، جبکہ ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل مجموعی طور پر پُرامن ماحول میں جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر 12 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 32.88 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوپال گنج میں قائم پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے قریب دستی بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ ضلع منشی گنج کے صدر اپازیلہ کی مولا کندی یونین میں مکھاتی گروچرن ہائی اسکول پولنگ سینٹر پر پیش آیا، جہاں صبح تقریباً 11 بجے دیسی ساختہ بم دھماکے کے بعد دو گروپوں میں تعاقب اور جوابی تعاقب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پولیس کے مطابق یہ جھڑپ مبینہ طور پر بی این پی کے حمایت یافتہ امیدوار اور ایک آزاد امیدوار کے حامیوں کے درمیان ہوئی، تاہم کسی جانی نقصان کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

الیکشن کمیشن کے سینئر سیکریٹری اختر احمد نے دوپہر میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کے 32 ہزار 789 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کی شرح 12 بجے تک 32.88 فیصد رہی اور پولنگ کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہی ہے۔

دارالحکومت ڈھاکا کے مختلف پولنگ مراکز میں صبح 7:30 بجے ووٹنگ کا آغاز ہوا۔ بعض مراکز پر طویل قطاریں دیکھی گئیں جبکہ کچھ مقامات پر ٹرن آؤٹ نسبتاً کم رہا۔ چٹاگانگ، باریسال اور دیگر اضلاع سے بھی پُرامن ووٹنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔باریسال میں صبح 10 بجے کے بعد ووٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 60 سالہ جلیل مردھا نے میڈیا کو بتایا کہ وہ گزشتہ تین انتخابات میں ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے تھے کیونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ ان کا ووٹ پہلے ہی ڈال دیا گیا ہے، تاہم اس بار وہ صبح سویرے پہنچے اور بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

ڈھاکا-9 سے آزاد امیدوار تسنیم جارا نے الزام عائد کیا کہ ان کی خواتین پولنگ ایجنٹس کو مختلف مراکز میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ خِلگاؤں ماڈل کالج پولنگ سینٹر کے دورے کے بعد انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پولنگ عملہ من مانے قواعد بنا کر ان کے نمائندوں کو اندر جانے سے روک رہا ہے۔

نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے ڈھاکا کے گلشن ماڈل ہائی اسکول میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد اس دن کو “نئے بنگلادیش کی سالگرہ” اور “یومِ آزادی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے ماضی کی تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور عوام سے پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ریفرنڈم میں بھی بھرپور شرکت کی اپیل کی۔بی این پی کے طارق رحمان، جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان اور این سی پی کے نہید اسلام سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ کاسٹ کیا۔ ڈھاکا-8 سے جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار ناصرالدین پٹواری نے انتخابی ماحول پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات ان کے حامیوں پر حملہ کیا گیا۔قومی شہری پارٹی (این سی پی) کے رہنما حسنت عبداللہ نے کملا-4 میں ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ اب تک ووٹنگ جشن کے ماحول میں جاری ہے اور نوجوان ووٹرز جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ عوامی سروے کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث دونوں بڑے اتحادوں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ملک بھر میں 299 حلقوں میں 42 ہزار سے زائد پولنگ مراکز پر ووٹنگ جاری ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

More posts