Baaghi TV

بھارت میں 25 ہزار سے زائد پائلٹس کے لائسنس،بے روزگار کتنے؟ڈیٹا موجود نہیں

Pilot

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے لوک سبھا کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں اس وقت مجموعی طور پر 25 ہزار 1 پائلٹس ایسے ہیں جن کے لائسنس تاحال مؤثر اور کارآمد ہیں۔ تاہم حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان میں سے کتنے پائلٹس عملی طور پر ملازمت کر رہے ہیں یا بے روزگار ہیں، اس حوالے سے کوئی مرکزی ریکارڈ موجود نہیں۔

وزارت شہری ہوابازی کے وزیر مملکت نے تحریری جواب میں بتایا کہ یہ اعداد و شمار ڈی جی سی اے کے پاس موجود ڈیٹا پر مبنی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعداد 65 برس سے کم عمر اُن پائلٹس پر مشتمل ہے جن کے لائسنس اس وقت فعال ہیں۔ترنمول کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے لائسنسز کی کیٹیگری کے لحاظ سے تفصیلات بھی پیش کیں ،10,261 پائلٹس کے پاس ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس (ATPL) موجود ہے، جو کمرشل طیاروں کی کمان سنبھالنے کے لیے اعلیٰ ترین سرٹیفکیشن تصور کیا جاتا ہے۔ان میں سے 10,051 پائلٹس ہوائی جہاز (ایروپلین) کے لیے مستند ہیں۔جبکہ 210 پائلٹس ہیلی کاپٹر آپریشن کے لیے منظور شدہ ہیں۔12,480 پائلٹس کے پاس کمرشل پائلٹ لائسنس (CPL) برائے ایروپلین ہے۔777 پائلٹس ہیلی کاپٹر کے لیے سی پی ایل رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ 1,477 افراد کے پاس پرائیویٹ پائلٹ لائسنس (PPL) برائے ایروپلین ہے، جبکہ صرف 6 افراد ہیلی کاپٹر کے لیے پی پی ایل کے حامل ہیں۔

حکومت نے واضح کیا کہ ڈی جی سی اے صرف لائسنسوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، پائلٹس کی ملازمت یا بے روزگاری سے متعلق کوئی مرکزی ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا جاتا۔ اس وجہ سے یہ معلوم نہیں کہ کتنے سی پی ایل یا اے ٹی پی ایل ہولڈرز اس وقت روزگار کی تلاش میں ہیں یا فعال پروازوں میں شامل نہیں۔وزیر مملکت کے مطابق سال 2014 سے 2025 کے دوران مجموعی طور پر 6,775 اے ٹی پی ایل جاری کیے گئے۔سب سے زیادہ 752 لائسنس سال 2019 میں جاری ہوئے۔تاہم 2020 میں کووڈ-19 وبا کے باعث یہ تعداد کم ہو کر 398 رہ گئی۔بعد ازاں ہوا بازی کے شعبے میں بحالی کے ساتھ لائسنسوں کے اجرا میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ماہرین کے مطابق ایک جانب پائلٹس کی بڑی تعداد موجود ہے، تو دوسری جانب ان کی ملازمت سے متعلق مربوط ڈیٹا کی عدم دستیابی پالیسی سازی اور افرادی قوت کی منصوبہ بندی میں ایک خلا کو ظاہر کرتی ہے۔ مستقبل میں ہوا بازی کے بڑھتے ہوئے شعبے کے پیش نظر حکومت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ نہ صرف لائسنسنگ بلکہ روزگار کے رجحانات پر بھی جامع نگرانی کا نظام وضع کرے۔

More posts