دنیا اس وقت ایک نئے جغرافیائی و معاشی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ طاقت کا محور تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی سیاست میں بیانیے، سفارت کاری، معیشت اور دفاع—چاروں عناصر مل کر کسی بھی ریاست کا مقام متعین کرتے ہیں۔ ایسے نازک دور میں پاکستان کا عالمی منظرنامے پر کھڑا ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔
پاکستان آج امریکہ سے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ تک ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی، سفارتی سرگرمیوں اور دفاعی پیشہ ورانہ صلاحیت نے ملک کا تشخص مضبوط کیا ہے۔ خاص طور پر عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اداروں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جس اعتماد کے ساتھ پیش کیا، اس نے ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مستحکم کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم اس مقام کی قدر بھی کر رہے ہیں؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اختلاف اکثر ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے میں بدل جاتا ہے۔ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر بے بنیاد الزام تراشی، افواہ سازی اور عالمی سطح پر اپنے ہی اداروں کو متنازع بنانے کی روش قومی مفاد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی سنجیدہ ریاست اپنے دفاعی و سلامتی کے ڈھانچے کو داخلی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھاتی۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سرحدوں پر کھڑا سپاہی کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں ہوتا—وہ ریاست پاکستان کا محافظ ہوتا ہے۔ محدود وسائل اور نسبتاً کم تنخواہوں کے باوجود، وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس قربانی کو محض تنخواہ کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ قومیں اپنے محافظوں کو مالی معاوضے سے زیادہ اخلاقی اعتماد دیتی ہیں—اور یہی اعتماد ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں معاشی دباؤ، علاقائی کشیدگی، اطلاعاتی جنگ اور پراپیگنڈا شامل ہیں۔ ایسے میں داخلی انتشار بیرونی قوتوں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم خود اپنے بیانیے کو کمزور کریں گے تو دنیا ہمیں سنجیدگی سے کیوں لے گی؟
یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں بدلیں گے یا اسے تعمیری مکالمے میں ڈھالیں گے۔ سیاسی قیادت، دانشور طبقہ اور میڈیا—سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر احتیاط اور توازن کا مظاہرہ کریں۔ ریاستی اداروں پر تنقید ہو سکتی ہے، مگر وہ شواہد اور ذمہ داری کے ساتھ ہو—نہ کہ سوشل میڈیا کی افواہوں یا بیرونی بیانیوں کے زیر اثر۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ خطے میں نئے اتحاد بن رہے ہیں، عالمی معیشت نئے مراکز کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اور اطلاعاتی جنگیں روایتی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو اندرونی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
قوموں کی تاریخ میں ایسے موڑ آتے ہیں جب انہیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ داخلی تقسیم کا شکار رہیں گی یا مشترکہ مفاد پر متحد ہوں گی۔ پاکستان اس وقت اسی موڑ پر کھڑا ہے۔ ہمیں اپنی زبانوں کو شعلہ بنانے کے بجائے چراغ بنانا ہوگا۔ اختلاف کو نفرت میں بدلنے کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
اگر ہم واقعی پاکستان کو عالمی سطح پر باوقار دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے قومی بیانیے میں سنجیدگی، ذمہ داری اور توازن پیدا کرنا ہوگا۔ کیونکہ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں—بلکہ اپنے شہریوں کے شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔
