Baaghi TV

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی رپورٹ: ایرانی فضائی حملوں کا دفاعی جائزہ

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والے ایرانی فضائی حملوں کے بعد سے اب تک کی صورتحال پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اماراتی فضائیہ اور ایئر ڈیفنس فورسز نے انتہائی مربوط انداز میں دشمن کے حملوں کا جواب دیا ہے۔ وزارت نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے آغاز سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 165 بیلسٹک میزائل، دو کروز میزائل، اور 541 ایرانی ڈرونز کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیا ہے۔ دفاعی نظام کی مستعدی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حملے کے دوسرے دن صبح کے وقت ہی فورسز نے 20 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ آٹھ میزائل سمندر میں جا گرے۔ اس کے علاوہ، اسی عرصے کے دوران دو کروز میزائلوں اور 311 ڈرونز کو بھی ہدف بنا کر تباہ کیا گیا۔
میزائل حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزارت نے واضح کیا کہ تہران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی سمت کل 165 بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے، جن میں سے 152 کو دفاعی نظام نے فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا، جبکہ 13 میزائل سمندری حدود میں جا گرے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دو کروز میزائلوں کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی تھی جنہیں فوری کارروائی کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ ڈرونز کے حوالے سے وزارت نے بتایا کہ 541 ایرانی ڈرونز کی آمد ریکارڈ کی گئی، جن میں سے 506 کو کامیابی سے مار گرایا گیا۔ تاہم، 35 ڈرونز ملک کے اندر گرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں سے 21 نے شہری اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے مادی نقصان بھی ہوا۔
اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے بارے میں وزارت دفاع نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان حملوں کے باعث تین افراد جاں بحق ہوئے جن کا تعلق پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تھا۔ اس کے علاوہ 58 افراد معمولی زخمی ہوئے، جن میں متحدہ عرب امارات، مصر، ایتھوپیا، فلپائن، پاکستان، ایران، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، آذربائیجان، یمن، یوگنڈا، ایریٹیریا، لبنان اور افغانستان کے شہری شامل ہیں۔ وزارت نے وضاحت کی کہ ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے کے عمل کے دوران ملبہ مختلف علاقوں میں گرا، جس سے شہری املاک کو معمولی سے درمیانے درجے کا نقصان پہنچا ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کسی بھی قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کا اعادہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں، رہائشیوں اور آنے والے مہمانوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے جس پر کسی بھی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی دفاعی فورسز نے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرتے ہوئے یہ باور کرایا ہے کہ وہ ملکی حدود کی حفاظت کے لیے ہر دم مستعد اور تیار ہیں۔

More posts