سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی غیر ضروری کشیدگی کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بین الاقوامی اصولوں اور سفارتی آداب کا احترام کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی متوازن ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کی جانب سے روس، چین اور پاکستان کا شکریہ ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ اگر بھارت کسی جارحیت کی تیاری کر رہا ہے تو پاکستان مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور کسی کو بھی اس کے خلاف مہم جوئی سے پہلے نتائج پر غور کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق جاری کارروائی جنگ نہیں بلکہ ایک آپریشن ہے جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغانستان میں موجود دہشتگردی کے مراکز کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت نے دہشتگرد گروہوں سے بیانات جاری کروا کر پاکستانی عوام اور افواج کے خلاف حملوں کی ترغیب دی۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں، آپریشن صرف ان عناصر کے خلاف ہے جو دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغان طالبان قیادت نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ بیرونی اثر و رسوخ کے تحت فیصلے کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن ضرب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان حکومت دہشتگردوں اور پاکستان کے درمیان واضح انتخاب نہیں کر لیتی۔ پاکستان اپنے دفاع اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک افغانستان میں آپریشن جاری رہے گا، پاکستان
