مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جب آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی کارروائی کے دوران ایران کے صدارتی کمپاؤنڈ پر متعدد بم گرائے گئے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائی ایرانی قیادت کے حساس مراکز کو ہدف بنانے کے لیے کی گئی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد ایران کی اعلیٰ سطحی فیصلہ سازی اور عسکری رابطہ نظام کو متاثر کرنا تھا۔اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے دفتر پر بھی فضائی حملہ کیا گیا۔ یہ ادارہ قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ "تزویراتی صلاحیت” کو کمزور کیا جا سکے۔
تہران میں لیڈرشپ کمپلیکس پر 100 طیاروں سے حملہ کیا گیا،اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں صدارتی بیورو کو بھی نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی فوج پچھلے 30 گھنٹے کے دوران ایران پر 2000 بم گرائے ہیں، ایران کے صدارتی دفتر اور سلامتی کونسل کی عمارت پر حملہ کیا ہے۔
علاوہ ازیں ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور قطرمیں امریکی اڈے پر حملے کیے ہیں،دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں جانی نقصان میں اضافہ ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں جنگ کے آغاز سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 787 تک پہنچ گئی۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای سمیت متعدد اہم عسکری و سیاسی شخصیات شہید ہوگئیں، اسکول کی درجنوں بچیوں سمیت سیکڑوں شہری بھی حملوں میں جاں بحق ہوئے۔
