ایران نے ایک وسیع و عریض زیرِ زمین سرنگی نیٹ ورک کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں قطار در قطار میزائل اور ڈرونز دکھائے گئے ہیں۔ یہ مناظر سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے نشر کیے، جسے ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
ویڈیو میں طویل سرنگوں کے اندر شاہد سیریز کے ڈرونز اور مختلف بیلسٹک میزائل نمایاں ہیں، جبکہ پس منظر میں ڈرامائی انداز اپنایا گیا ہے۔ ایک منظر میں مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی دیوارگیر تصویر بھی دکھائی گئی ہے۔ سرنگوں کی چھتوں سے ایرانی پرچم آویزاں ہیں اور کچھ مناظر میں ٹرکوں پر نصب شاہد ڈرون لانچرز بھی دکھائے گئے، جن میں ہر ایک پر چار ڈرون نصب تھے۔رپورٹس کے مطابق شاہد ڈرونز کی تیاری پر دسیوں ہزار ڈالر لاگت آتی ہے اور انہیں نسبتاً کم وقت میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل کی قیمت 40 سے 50 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے، جبکہ تھاڈ (THAAD) بیٹری کی لاگت تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر فی یونٹ ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کے Stimson Center سے وابستہ سکیورٹی ماہر کرسٹی گریئکو کے تجزیے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کے داغے گئے 541 ڈرونز میں سے 92 فیصد مار گرائے۔ اندازوں کے مطابق ایران نے ان ڈرونز پر 1 کروڑ 10 لاکھ سے 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جبکہ دفاعی اخراجات 25 کروڑ 30 لاکھ سے 75 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں ، یعنی دفاع پر حملے سے کئی گنا زیادہ لاگت آئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار سے فضائی دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ چند دنوں میں ختم ہو سکتا ہے، کیونکہ انٹرسیپٹرز غیر معمولی تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز پر “مکمل کنٹرول” حاصل کر لیا ہے۔ یہ وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ کشیدگی کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جولائی 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ پانچویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ ایران اب بھی میزائل داغنے کی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیل نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ یروشلم کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2 ہزار ڈرون داغ چکا ہے۔ امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج تقریباً 2 ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں اور ایران کے سینکڑوں میزائل، لانچرز اور ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک 11 سالہ بچی شیل کے ٹکڑے لگنے سے ہلاک ہوئی۔ امریکی سفارت خانوں اور فوجی اڈوں کے قریب بھی حملوں کی خبریں ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے مہنگے اور پیچیدہ دفاعی نظام برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ ایران نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے طویل المدتی دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور سکیورٹی منظرنامے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
