ایک بار پھر عسکری تاریخ اہم باب کی شاہد بنی جب "آپریشن غضب للحق” کے عنوان سے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتار کارروائیاں انجام دیں۔ یہ محض ایک عسکری پیش قدمی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے باب میں ایک دوٹوک اعلان تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔
ذرائع کے مطابق کارروائیوں کا مرکز تاریخی شہر قندھار تھا، جہاں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا گیا، جب کہ متعدد کالعدم تنظیموں سے وابستہ شدت پسند مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں ان عناصر کو نشانہ بنایا گیا جو القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تھے۔ بعض تنصیبات کو شدت پسندوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ انہیں ممکنہ فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی۔ یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست اپنی خودمختاری، سرحدی وقار اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ عسکری ماہرین کے نزدیک یہ کارروائیاں نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں بلکہ ایک سفارتی اشارہ بھی ہیں کہ خطے میں امن کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار موجود شدت پسند ڈھانچوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
یہ تمام تر پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور امن کی کوششوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ توقع رکھتا ہے کہ ہمسایہ ممالک بھی اسی اصول کی پاسداری کریں۔”آپریشن غضب للحق” اسی اصول کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے، ایک ایسا اعلان جو بتاتا ہے کہ شاہین جب پرواز کرتے ہیں تو وہ محض فضا نہیں چیرتے، بلکہ قومی عزم کی لکیر بھی کھینچ دیتے ہیں۔
برِصغیر کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ قومی غیرت اور خودمختاری کی علامت بن جاتے ہیں۔ "آپریشن غضب للحق” بھی ایسا ہی ایک باب ہے جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔اس موقع پر پوری قوم اپنی مسلح افواج، بالخصوص پاک فوج اور پاک فضائیہ کے شاہینوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ یہ وہ سپوت ہیں جو سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کی شبانہ روز محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی دیوار ناقابلِ تسخیر ہے۔پاک فوج کے جوان برف پوش چوٹیوں سے لے کر تپتے ریگزاروں تک وطن کی حرمت کے نگہبان ہیں۔ ان کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے، اور یہ اعتماد ہے کہ وہ ہر چیلنج کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہیں گے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ پیغام واضح ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”آپریشن غضب للحق” صرف ایک عسکری کارروائی نہیں، بلکہ عزم و استقلال کی علامت ہے ، ایک ایسا اعلان کہ جب وطن کی حرمت کا سوال ہو تو شاہینوں کی پروازیں تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں، اور قوم اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔
