Baaghi TV

قابل افسران کو میدان میں لانے کی ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے کرپشن اور نااہلی کا شکار ہیں، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ ہر سرکاری افسر یا ہر ادارہ بدعنوان ہے۔ پاکستان کی پولیس، سول بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں میں آج بھی ایسے بے شمار افسران موجود ہیں جو ایمانداری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قانون کی حکمرانی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فرائض کو صرف نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایسے قابل اور باصلاحیت افسران کو اکثر وہ جگہ نہیں دی جاتی جہاں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ بہت سے ایسے افسران جو فیلڈ میں جا کر بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں، عوام کے مسائل حل کر سکتے ہیں اور ریاست کی رٹ مضبوط کر سکتے ہیں، انہیں دفتروں میں محدود کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی صلاحیتیں کاغذی کارروائیوں تک محدود ہو جاتی ہیں جبکہ میدانِ عمل میں وہ نتائج سامنے نہیں آتے جو آ سکتے تھے۔

پنجاب کی مثال لی جائے تو یہاں پولیس اور سول انتظامیہ میں ایسے کئی افسران موجود ہیں جو نہ صرف دیانتدار ہیں بلکہ جدید سوچ بھی رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مسائل کے حل کے لیے منصوبے اور نئی سوچ موجود ہے۔ لیکن اگر ایسے لوگوں کو عملی میدان میں اختیار اور موقع نہ دیا جائے تو ان کی صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اچھے منصوبے صرف کاغذوں یا چند دفاتر تک محدود رہ جاتے ہیں۔

ریاست کے ذمہ داران کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی نظام کی بہتری کے لیے صرف قوانین یا اعلانات کافی نہیں ہوتے، بلکہ درست لوگوں کو درست جگہ پر تعینات کرنا سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر قابل، ایماندار اور باصلاحیت افسران کو فیلڈ میں ذمہ داریاں دی جائیں اور ان پر اعتماد کیا جائے تو نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم عمومی مایوسی اور منفی سوچ سے باہر نکلیں۔ اگر چند افراد کی وجہ سے پورے نظام کو بدنام کر دیا جائے تو اس سے ان ایماندار لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان اچھے افسران کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور نظام کو اس انداز میں ترتیب دینا چاہیے کہ قابلیت اور دیانتداری کو آگے آنے کا موقع ملے۔

مختصر یہ کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ ہمارے اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں صحیح مواقع، اختیارات اور میدان دیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ریاستی نظام کو مزید مضبوط بنا سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو اداروں کی بہتری اور ملک کی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

More posts