مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث چین نے اپنے ملک کی بڑی آئل ریفائنریوں کو پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق چین نے ممکنہ عالمی بحران کے پیش نظر ایندھن کی بیرون ملک فراہمی عارضی طور پر معطل کر دی ہے تاکہ ملک کے اندر پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی محفوظ رکھی جا سکے۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خام تیل کی قیمت تقریباً 9.11 فیصد اضافے کے بعد 100.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
خلیجی خطے میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور اہم آئل ٹرمینلز کی بندش کے باعث توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔
ایندھن کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشے کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت بھی 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی۔ عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ تقریباً 9 فیصد اضافے کے بعد 100.22 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 9 فیصد اضافے کے ساتھ 95.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
عراقی سیکیورٹی حکام کے مطابق عراقی سمندری حدود میں تیل بردار دو بحری جہازوں کو بارود سے بھری ایرانی کشتیوں نے نشانہ بنایا، جس کے بعد عراق کی تیل کی بندرگاہوں پر آپریشنز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب عمان نے حفاظتی اقدامات کے تحت اپنے اہم مینا الفحل آئل ایکسپورٹ ٹرمینل سے جہازوں کو ہٹا لیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے سے بچا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ کشیدگی، چین نے پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات روک دیں
