مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تازہ معاشی تجزیوں کے مطابق اگر خطے میں جاری تنازعات طویل ہو گئے تو 2026 کے آخر تک دبئی میں جائیدادوں کی قیمتیں 60 سے 70 فیصد تک گر سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رئیل اسٹیٹ مارکیٹ انڈیکس پہلے ہی تقریباً 20 فیصد تک گر چکا ہے جس کے نتیجے میں 2025 کے دوران ہونے والا تقریباً تمام قیمتوں کا اضافہ ختم ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث ممکنہ خریدار ایسی جائیدادوں میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں جن کی قیمت آنے والے مہینوں میں مزید 30 سے 50 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو موسمِ گرما 2026 تک دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں کم از کم 50 فیصد تک گر سکتی ہیں جبکہ طویل جنگ کی صورت میں یہ کمی 60 سے 70 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ دبئی سے بڑی تعداد میں سرمایہ کار اپنا سرمایہ دوسرے ممالک منتقل کر رہے ہیں۔ مشرقی ایشیا کے سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کا رخ سنگا پور اور ہانگ کانگ کی جانب موڑ دیا ہے جبکہ یورپی اور روسی سرمایہ کار تھائی لینڈ،ترکی میں متبادل مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ، جو ماضی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں، سیاحوں اور ہائی اینڈ خدمات کی طلب پر انحصار کرتی تھی، اب شدید دباؤ کا شکار ہے۔ کئی سرمایہ کار تیزی سے اپنی جائیدادیں کم قیمت پر فروخت کر کے مارکیٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جیوپولیٹیکل خطرات، میزائل حملوں کے خدشات اور خلیجی خطے میں اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے باعث دبئی کو اب ایک نسبتاً پرخطر سرمایہ کاری کے علاقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو بھی دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو سابقہ سطح پر واپس آنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے قریب جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث اس شہر کی سلامتی اور معاشی استحکام کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
