Baaghi TV

خلیج فارس میں امریکی بحری طاقت کو بڑا دھچکا، یو ایس ایس ابراہم لنکن کی واپسی عالمی میڈیا میں بحث

خلیج فارس کی حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن کی خراب حالت میں واپسی کی خبروں نے عالمی میڈیا اور عسکری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے جدید جنگ میں طیارہ بردار جہازوں کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق خلیج فارس میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ طیارہ بردار جہازوں کا روایتی دور شاید اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی عسکری حکمت عملی اور جدید دفاعی صلاحیتوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ طیارہ بردار جہاز اب ناقابلِ تسخیر قلعے نہیں رہے بلکہ بڑے اور مہنگے اہداف بن سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس صورتحال کو امریکہ کے لیے ایک “قومی صدمہ” قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 ارب ڈالر مالیت کے اس بحری جہاز کے چند ہی لمحوں میں غیر مؤثر ہونے کے دعووں نے امریکی فوجی طاقت کے بارے میں سخت سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ سی این این کے مطابق اس حالت میں جہاز کی امریکہ واپسی کو بعض تجزیہ کار ویتنام جنگ کے بعد امریکی فوجی ساکھ کو لگنے والا سب سے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

روسی خبر رساں ادارے ے اپنے تجزیے میں لکھا کہ “ایک زمانے میں سمندری طاقت کی علامت سمجھا جانے والا یہ جہاز اب اپنی پرانی حیثیت کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔” رپورٹ میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جو جہاز خطے کو دھمکانے آیا تھا وہ اب “پانی میں تیرتے ملبے” جیسی حالت میں واپس جا رہا ہے۔

اسی طرح فرانسیسی خبر ایجنسی Agence France-Presse نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کے بعد امریکی محکمہ دفاع میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاز کی واپسی سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں جھکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی اتحادی ممالک میں بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ اگر امریکہ کا سب سے بڑا جنگی جہاز بھی اپنے دفاع میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے تو خطے میں امریکی تحفظ کی ضمانت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے اس صورتحال کو مغربی بحری بالادستی کے لیے ایک علامتی دھچکا قرار دیا۔ اخبار کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو تاریخ میں اسے وہ لمحہ سمجھا جا سکتا ہے جب مغربی بحری طاقت کی روایتی برتری کو پہلی بار سنجیدہ چیلنج ملا۔

مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی عسکری صورتحال کے تناظر میں یہ واقعہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اسٹریٹجک مقابلے کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔

More posts