امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران مختلف ممالک میں تعینات امریکی فوجیوں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز کے مطابق اب تک تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی یا متاثر ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ زخمی فوجی سات مختلف ممالک میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے دوران متاثر ہوئے۔ تاہم زیادہ تر زخمیوں کی حالت زیادہ تشویشناک نہیں تھی اور 180 سے زائد فوجی علاج کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔یہ تازہ اعداد و شمار پہلے جاری ہونے والی رپورٹ سے زیادہ ہیں۔ 10 مارچ تک امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بتایا تھا کہ 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک تھی۔ایک امریکی عہدیدار نے پہلے بتایا تھا کہ جن فوجیوں کو شدید زخمی قرار دیا گیا ہے ان میں ایسے کیسز بھی شامل ہیں جن میں جان کو سنگین خطرہ لاحق تھا یا موت کا خدشہ موجود تھا۔
ادھر امریکی حکام کے مطابق اب تک جاری لڑائی میں 13 امریکی فوجی ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔فوجی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھ یا تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ بعض اوقات فوجی کسی واقعے کے فوراً بعد طبی امداد حاصل نہیں کرتے، خاص طور پر جب چوٹ معمولی نوعیت کی ہو۔ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی افواج کو مختلف محاذوں پر خطرات کا سامنا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ رہے ہیں۔
