Baaghi TV

اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملے،ایرانی جوابی کاروائیاں،ٹرمپ کی نیٹو ،میڈیاپر تنقید

عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل سے متعلق کئی اہم خبریں سامنے آئی ہیں۔

ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے طاقتور ترین فیصلہ سازوں میں شمار ہونے والے علی لاریجانی مارے گئے ہیں۔ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ایک کارروائی میں “ختم” کر دیا گیا ہے۔اسی دوران ایران کی نیم فوجی تنظیم بسیج کے سربراہ کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ایرانی سیکیورٹی ڈھانچے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو نیٹو میں اپنی رکنیت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک نہ تو ایران کے خلاف جاری جنگ میں مؤثر مدد فراہم کر رہے ہیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی یقینی بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز، جس میں میرینز اور سیلرز سوار ہیں، آبنائے ملاکا کے قریب سنگاپور کے ساحل سے گزرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔یہ پیش رفت خطے میں ممکنہ فوجی تیاریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

امریکہ کے ایک سینئر انسداد دہشتگردی انٹیلی جنس عہدیدار، جنہیں ٹرمپ نے مقرر کیا تھا، نے اچانک استعفیٰ دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ “ضمیر کے مطابق ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔”صدر ٹرمپ نے اس استعفے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے “اچھی بات” قرار دیا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایون جیل میں قید امریکی شہریوں کی حفاظت سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سلامتی کا دارومدار موجودہ صورتحال پر ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل ایرانی جیلوں کو نشانہ نہیں بناتے تو ان قیدیوں کو محفوظ سمجھا جا سکتا ہے۔‎ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف پہلوؤں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن میں قیدیوں کی صورتحال بھی شامل ہے۔‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف نوعیت کے بیانات اور اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے امریکی میڈیا اداروں کے لائسنس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو خطے میں ایران کی جانب سے امریکی اثاثوں کو نقصان پہنچانے سے متعلق خبریں شائع کر رہے ہیں۔‎انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسی رپورٹس قومی مفادات کے خلاف جا سکتی ہیں، اس لیے ان پر سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔‎ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکا ایرانی عوام کو آزادی دلانے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔‎ان کے اس بیان کے بعد میڈیا کی آزادی اور حکومتی پالیسیوں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ناقدین اسے اظہارِ رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ حامی اسے قومی سلامتی کے تناظر میں ضروری اقدام سمجھتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کو تمام پروازوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ایک غیر معمولی احتیاطی فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔‎حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا، تاکہ ممکنہ خطرات سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔‎اس سے قبل امارات کی وزارتِ دفاع نے بھی بتایا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی نگرانی، سراغ رسانی اور انہیں روکنے کے لیے سرگرم ہے۔‎حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات بہتر ہونے پر فضائی حدود کے حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو مخصوص بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک صیہونی میڈیا ادارہ خطے کے بعض ممالک کی سیٹلائٹ اور میڈیا انفراسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف اشتعال انگیزی، غلط معلومات کی ترسیل اور نفسیاتی جنگ میں مصروف ہے۔‎ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس میڈیا کو معاونت جاری رہی تو اس سے منسلک تمام مقامات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔‎بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے تمام عناصر اور سہولیات کو ایران کی ہدف فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے جو اس سرگرمی میں کسی بھی شکل میں تعاون کر رہے ہوں۔‎اس بیان کے بعد خطے میں میڈیا تنصیبات اور سیٹلائٹ مراکز کی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے


اطالوی میڈیا کے مطابق کویت میں واقع علی السالم ایئربیس پر ایک حملے کے نتیجے میں اٹلی کا جدید نگرانی ڈرون ایم کیو 9 اے پریڈیٹر تباہ ہو گیا ہے۔‎رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون ایک محفوظ شیڈ میں موجود تھا جب ایک ڈرون حملے کے ذریعے اس شیڈ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ڈرون مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔‎ذرائع کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے اس ڈرون کی مالیت تقریباً 30 سے 35 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے، جو اسے ایک قیمتی عسکری اثاثہ بناتی ہے۔‎واقعے کے بعد ایئربیس پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

More posts