واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے تقریباً تین ہفتے بعد بدھ کے روز پہلی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام نے عوامی سطح پر سینیٹ کی اہم کمیٹی کے سامنے گواہی دی، جہاں ان کے بیانات نے حکومتی مؤقف پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
یہ سماعت امریکی انٹیلی جنس کمیٹی میں ہوئی، جس میں ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ، سی آئی اے کے سربراہ جوہن اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے شرکت کی۔ سینیٹرز نے ایران جنگ سے متعلق حکومتی دعوؤں اور انٹیلیجنس رپورٹس میں پائے جانے والے تضادات پر سخت سوالات کیے۔امریکی سینیٹ کی انٹیلی جینس کمیٹی میں امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تُلسی گبارڈ کی کھنچائی کردی۔تلسی نے پچھلے سال جون میں ایران پر حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت بالکل ختم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی نے پوچھا کہ اب وائٹ ہاؤس نے یکم مارچ کو کہا کہ امریکا نے ایران کے لازمی ایٹمی خطرے کو ختم کرنے کے لیے مہم شروع کی ہے۔ جب جون میں ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم ہو گئی تھی تو اس کا خطرہ دوبارہ کیسے پیدا ہو گیا ؟تُلسی گبارڈ کئی بار پوچھنے کے باوجود جواب نہ دے سکیں، کہا کہ یہ طے کرنا صدر کا کام ہے کہ کوئی خطرہ لازمی ہے یا نہیں۔کمیٹی کے ایک رکن نے یہ بھی کہا کہ آپ نے ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت ختم کرنے کا بیان اپنے تحریری جواب میں نقل کیا مگر تقریر میں کیوں چھوڑ دیا؟ اس پر تلسی گبارڈ نے کہا کہ ایسا وقت کی کمی کی وجہ سے کیا؟
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن انٹیلیجنس حکام نے اس دعوے کی بھی مکمل حمایت نہیں کی۔تلسی گبارڈ کے مطابق ایران اگر کوشش کرے بھی تو 2035 سے پہلے مؤثر بین البراعظمی میزائل تیار کرنا ممکن نہیں۔جبکہ جوہن نے بھی کسی مخصوص ٹائم لائن دینے سے گریز کیا، جس سے حکومتی بیانیے پر مزید شکوک پیدا ہوئے۔
ایران جنگ کا سب سے اہم جواز یہ بتایا گیا تھا کہ ایران امریکہ کے لیے “فوری خطرہ” بن چکا تھا۔ تاہم سماعت میں اس دعوے کی بھی واضح توثیق نہیں ہو سکی۔تلسی گبارڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کوئی خطرہ فوری ہے یا نہیں، صدر کا اختیار ہے، نہ کہ انٹیلیجنس اداروں کا۔دوسری جانب جوہن نے کہا کہ ایران ایک مستقل خطرہ ضرور ہے، لیکن انہوں نے بھی اسے واضح طور پر “فوری” خطرہ قرار نہیں دیا۔
سماعت سے ایک روز قبل نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جو اس معاملے میں ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔اپنے استعفیٰ میں انہوں نے عندیہ دیا کہ حکومت نے ایران کے خطرے کے بارے میں مبالغہ آرائی یا غلط بیانی کی۔ تاہم سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان نے ان کے مؤقف کو زیادہ نمایاں طور پر زیر بحث نہیں لایا۔
سماعت کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران جنگ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔انٹیلیجنس حکام کے بیانات، وائٹ ہاؤس کے دعوؤں اور مستعفی ہونے والے افسر کے الزامات ،سب مل کر ایک پیچیدہ اور متضاد تصویر پیش کرتے ہیں۔سماعت کے دوران تلسی گبارڈ سے جارجیا کمیں ایک متنازع ایف بی آئی چھاپے میں ان کی موجودگی پر بھی سوالات کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ وہ صدر کی ہدایت پر وہاں موجود تھیں، لیکن اس معاملے پر بھی حکومتی بیانات میں تضاد پایا گیا، جس سے مزید شکوک جنم لے رہے ہیں۔
سینیٹ کی اس اہم سماعت نے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے بیانیے کو شدید چیلنج کر دیا ہے۔انٹیلیجنس حکام کے بیانات نے نہ صرف حکومتی دعوؤں کی نفی کی بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ جنگ کے جواز، خطرات کی نوعیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر خود امریکی قیادت کے اندر واضح تقسیم موجود ہے۔
