Baaghi TV

کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھانا،ٹی ٹی پی کا چہرہ بے نقاب،صوبائی حکومت کی ناکامی کی واضح مثال

آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے ملک میں کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھا کر ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ساتھ اس نوعیت کی ویڈیوز دہشتگرد کسی بھی جگہ اسٹیج کر سکتے ہیں اور انہیں ڈیجیٹل طور پر پھیلا کر کنٹرول کا جھوٹا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔

یہ فوٹیج ٹی ٹی پی خوارج کا اصل چہرہ بے نقاب کرتی ہے، جو ایک ایسا دہشتگرد گروہ ہے جو عوامی حمایت کے بجائے خوف، جبر اور اسٹیج کیے گئے پروپیگنڈے پر انحصار کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی خوارج کی جانب سے بچوں کا استعمال ایک سوچا سمجھا عمل ہے، جس کے ذریعے معصوم ذہنوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے اور معصومیت کو تشدد کے آلے میں بدلا جا رہا ہے۔ بچوں کے ذریعے درخت جلانا اور ہتھیار لہرانا تباہی کی علامت ہے، جو ٹی ٹی پی کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو انسانی جان کی قدر کو رد کرتی ہے، اور خوارج کی تباہ کن ذہنیت اور عوام دشمن، استحکام مخالف اقدامات کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب ٹی ٹی پی خوارج دیکھتے ہیں، ایک ایسا معاشرہ جہاں نہ تعلیم ہو، نہ حکمرانی، اور نہ ہی بنیادی انسانی اقدار۔

خیبر پختونخوا سے سامنے آنے والے ایسے واقعات صوبائی حکومت کی رٹ پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں اور اس ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں کہ انتہاپسند عناصر کو کھلے عام سرگرم ہونے سے کیوں نہ روکا جا سکا۔ خیبر پختونخوا میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی سیاسی قیادت کہاں ہے؟ اور جب شدت پسند بیانیہ معمول بنایا جا رہا ہے تو منتخب نمائندے خاموش کیوں ہیں؟ ٹی ٹی پی خوارج کا مقابلہ صرف سیکیورٹی فورسز پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس کے لیے مؤثر حکمرانی، قانون کا نفاذ اور ہر سطح پر ریاست کی واضح موجودگی ضروری ہے۔ اگر اس سوچ کا اجتماعی طور پر مقابلہ نہ کیا گیا تو یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور وحشی عناصر کو ریاست کی سمت متعین کرنے کا موقع دے سکتی ہے

More posts