ایران کے خلاف اسرائیل کی ناکامی، نیتن یاہو نے زمینی فوج کی ضرورت پر زور دیا
اکیس دن کی مسلسل بمباری، اہم تنصیبات پر حملوں اور ایران کی اعلیٰ قیادت کی شہادت کے باوجود، اسرائیل اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران میں زمینی فوج اتارنا اب ضروری ہو گیا ہے تاکہ ملک کی حکومت پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔کئی روز منظرِ عام سے غائب رہنے کے بعد نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے ایران کی میزائل سازی اور یورینیم افزودگی کی صلاحیتوں کو کمزور کیا، لیکن فوجی قدم اٹھائے بغیر حکومت کا تختہ نہیں الٹ سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ زمینی کارروائی کے لیے مختلف آپشنز موجود ہیں، اور ساؤتھ پارس پر اسرائیل نے پہلے ہی حملے کیے، تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید حملوں سے روک دیا تھا۔
دوسری جانب، امریکی حکام نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فورسز بڑھانے کی تیاری کر لی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا کے کم از کم تین بحری بیڑے سان ڈی ایگو سے روانہ ہو چکے ہیں، اور 4 ہزار امریکی میرین اور سیلرز بھی بھیجے جانے والے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکا کی ریپڈ رسپانس فورس کی تعیناتی سے ایران پر زمینی حملے کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نے بھی اعتراف کیا کہ امریکا کو ایران کے خلاف مزید حملوں پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
