Baaghi TV

مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں‏۔ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا مشرق وسطیٰ میں فوجی مشن ختم کرنے پر غور، جنگ کے اہداف حاصل کرنے کے قریب ہیں، آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کو اس کی حفاظت خود کرنا ہوگی

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی میزائل صلاحیت، لانچرز اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا اہم اہداف میں شامل ہے۔ ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو کمزور کرنا بھی حکمت عملی کا حصہ ہے، امریکا ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قریب نہیں آنے دے گا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا، امریکہ اپنے اتحادی ممالک جیسے اسرائیل، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا ،جو ممالک آبنائے ہرمز استعمال کرتے ہیں اس کی حفاظت انھیں خود کرنی ہوگی، ان ممالک کی آبنائے ہرمز میں مدد کریں گے، لیکن اس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے‏۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر گزشتہ رات کی گئی پوسٹ کو ماہرین نے ایران جنگ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔امریکی صحافی مارک اسٹون کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگ سے پیچھے ہٹنے کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق اس پوسٹ میں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے تحفظ کا ذکر تو کیا گیا، تاہم اصل اہم نکتہ آبنائے ہرمز سے متعلق بیان ہے۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور سکیورٹی کی ذمہ داری ان ممالک کو اٹھانی چاہیے جو اس راستے کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ امریکہ اس میں براہ راست شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ان ممالک کی مدد کر سکتا ہے، لیکن ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد ایسی ضرورت باقی نہیں رہنی چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے تحت واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اپنی براہ راست عسکری ذمہ داریوں کو کم کرنا چاہتا ہے اور خطے کے ممالک کو زیادہ کردار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

قبل ازیں امریکہ نے ایرانی تیل پر 30 دنوں کے لیے پابندیاں اٹھا لی ہیں، جس سے پہلے سے سمندر میں موجود تیل کو عالمی منڈیوں میں فروخت اور فراہم کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران نے دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اس اقدام کا مقصد تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنا اور تیل کی مارکیٹ کو مستحکم کرنا ہے۔ اس مدت کے دوران تقریباً 140 ملین بیرل ایرانی تیل مارکیٹ میں داخل ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ ریلیف عارضی ہے اور صرف اس تیل تک محدود ہے جو پہلے سے ٹرانزٹ میں ہے۔ نئی پیداوار یا نئے سودوں پر اب بھی پابندی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک قلیل مدتی حل ہے، مکمل پالیسی تبدیلی نہیں۔ یہ فیصلہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں، بشمول بنجمن نیتن یاہو کے زیرِ اثر اسرائیل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو اجاگر کرتا ہے، کیونکہ جنگ عالمی سطح پر تیل کی مارکیٹ اور اسٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

More posts