ایران نے ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے اپنی واضح شرائط سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی نقصانات کا معاوضہ اور عائد پابندیوں کا خاتمہ کسی بھی معاہدے کے لیے بنیادی تقاضے ہوں گے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پائیدار امن کا خواہاں ہے، مگر اس کے لیے انصاف پر مبنی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
ترجمان کے مطابق جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ ایران کی اولین ترجیح ہے اور اس کے بغیر کسی بھی پیش رفت کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد معاشی پابندیاں ختم کیے بغیر خطے میں استحکام نہیں آ سکتا، کیونکہ یہ پابندیاں نہ صرف معیشت بلکہ عوامی زندگی کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
فاطمہ مہاجرانی نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول ایران کے لیے ناگزیر ہے اور اسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یہ معاملہ ایران کی قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی معاہدے میں اپنے بنیادی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ایک ایسا حل چاہتا ہے جو طویل المدتی امن کو یقینی بنائے۔ ان کے مطابق وقتی جنگ بندی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک جامع اور دیرپا معاہدہ ہی خطے میں استحکام لا سکتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امن یا جنگ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار ایران کی اعلیٰ قیادت کے پاس ہے، اور تمام فیصلے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
امن معاہدے کیلئے ایران کی شرائط، پابندیوں کا خاتمہ اور معاوضہ لازم
