امریکی لڑاکا طیارے کے دوسرے پائلٹ کو ایران کے اندر ایک خفیہ اور انتہائی خطرناک ریسکیو آپریشن کے دوران بحفاظت نکال لیا گیا
میجر(ر) ہارون الرشید
میڈیا رپورٹس کے مطابق McDonnell Douglas F-15E Strike Eagle طیارہ ایران کے جنوب مغربی علاقے میں مار گرایا گیا تھا جس کے بعد دونوں عملے کے ارکان نے پیراشوٹ کے ذریعے ایجیکٹ کر لیا تھا۔ United States Air Force نے فوری طور پر Combat Search and Rescue (CSAR) آپریشن شروع کیا۔
ریسکیو آپریشن کیسے ہوا
رپورٹس کے مطابق:
طیارہ گرنے کے بعد دونوں امریکی اہلکاروں نے اپنی ایمرجنسی کمیونیکیشن ڈیوائس کے ذریعے امریکی افواج سے رابطہ قائم کیا۔
Axios
پہلا پائلٹ چند گھنٹوں کے اندر امریکی ریسکیو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نکال لیا گیا۔
Military.com
دوسرا اہلکار، جو ویپن سسٹمز آفیسر تھا، پہاڑی علاقے میں چھپ کر ایرانی فورسز سے بچتا رہا۔
امریکی اسپیشل فورسز اور فضائیہ نے تقریباً 36 گھنٹے تک تلاش جاری رکھی۔
The Guardian
آخری ریسکیو مشن
امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈوز کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایران کے اندر اتارا گیا۔
علاقے میں ایرانی فورسز کی موجودگی کے باعث امریکی جنگی طیاروں نے فضائی نگرانی اور کور فراہم کیا
شدید خطرات کے باوجود کمانڈوز نے پائلٹ کو تلاش کر کے اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
ریسکیو ٹیم اور زخمی اہلکار کو بعد ازاں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے منتقل کر دیا گیا۔
The Jerusalem Post
امریکی ردعمل
امریکی صدر Donald Trump نے اس کارروائی کو امریکی فوج کی تاریخ کے جرات مندانہ ترین ریسکیو آپریشنز میں سے ایک قرار دیا ہے۔
The Jerusalem Post
