ملک بھر میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور وسائل کے بہتر استعمال کے پیش نظر حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام بازاروں، مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا جس میں پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے استعمال سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں توانائی کی بچت ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے لیے کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار میں کمی ضروری ہے۔ اس فیصلے کے تحت نہ صرف بڑے شاپنگ مالز بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء فروخت کرنے والی دکانیں اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز بھی رات 8 بجے بند کرنے کے پابند ہوں گے۔
تاہم عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ شعبوں کو محدود نرمی دی گئی ہے۔ بیکریاں، ریسٹورنٹس، تندور اور دیگر کھانے پینے کی دکانوں کو رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ شہریوں کو کھانے پینے کی اشیاء کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اسی طرح شادی ہالز کے اوقات کار بھی محدود کر دیے گئے ہیں اور انہیں رات 10 بجے کے بعد بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں نجی گھروں اور پراپرٹیز میں ہونے والی شادی بیاہ کی تقریبات پر بھی رات 10 بجے کے بعد پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ غیر ضروری توانائی کے استعمال کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب حکومت نے عوامی صحت کے پیش نظر میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے تاکہ شہریوں کو ادویات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہ سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی ہیں اور ملک کو درپیش توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے قومی مفاد میں حکومت کا ساتھ دیں۔
رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ، ملک بھر میں نئے اوقات نافذ
