Baaghi TV

برطانیہ میں ملک ریاض پر پابندی،دبئی میں منصوبے کی تشہیر پر تین ایم پی تنقید کی زد میں

برطانیہ میں تین ارکانِ پارلیمنٹ ایک ایسے لگژری پراپرٹی منصوبے کی تشہیر کے باعث تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے مالکان پر بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات کے تحت برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد ہے۔

رپورٹس کے مطابق لیبر پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ افضل خان اور ناظ شاہ، جبکہ آزاد حیثیت سے منتخب ایوب خان نے دبئی میں بننے والے ایک نئے صحرائی شہر “واڈا” کی تشہیری تقریبات میں شرکت کی۔ ان تقریبات کا مقصد برطانوی پاکستانی سرمایہ کاروں کو اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا تھا۔یہ منصوبہ ایک بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی بحریہ ٹاؤن سے وابستہ ہے، جسے پاکستانی کاروباری شخصیت ملک ریاض حسین اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک چلاتے ہیں۔ دونوں شخصیات اس وقت پاکستان میں بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کا سامنا کر رہی ہیں اور برطانیہ میں داخلے پر پابندی کا شکار ہیں۔

سن 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض اور ان کے خاندان کے خلاف تحقیقات کے بعد 14 کروڑ پاؤنڈ نقد رقم اور لندن کے علاقے نائٹس برج میں واقع تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ مالیت کی جائیداد ضبط کرنے کا معاہدہ کیا۔ یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا اثاثہ ریکوری تصفیہ قرار دیا گیا۔یہ کارروائی پاکستانی حکام کی جانب سے بحریہ ٹاؤن سے متعلق مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے تناظر میں کی گئی تھی۔ تاہم ملک ریاض اور ان کے بیٹے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور انہیں سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔

دبئی کے جنوبی صحرا میں مجوزہ “Waada” شہر کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہاں 40 ہزار افراد کے لیے رہائش، فائیو اسٹار ہوٹل، ولاز، اپارٹمنٹس، باغات اور مصنوعی جھیلیں تعمیر کی جائیں گی۔ اس منصوبے کا مرکز ایفل ٹاور کی طرز پر ایک ماڈل ڈھانچہ ہوگا۔افضل خان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مقامی کاروباری شخصیت کی دعوت پر مختصر وقت کے لیے تقریب میں گئے تھے، انہوں نے نہ تو خطاب کیا اور نہ ہی منصوبے کی حمایت یا تشہیر کی۔ایوب خان نے کہا کہ انہیں منصوبے کے مالکان کے ماضی کے حوالے سے کوئی علم نہیں تھا اور انہوں نے اپنے نام کو تشہیری مواد سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ناظ شاہ کے ترجمان کے مطابق وہ اکثر اپنے حلقے کے پاکستانی نژاد افراد کی تقریبات میں شرکت کرتی ہیں اور یہ بھی انہی میں سے ایک تھی۔

اگرچہ برطانوی قانون کے تحت ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے پراپرٹی منصوبوں کی تشہیر پر کوئی واضح پابندی نہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے متنازع کاروباری شخصیات سے جڑے منصوبوں میں شرکت سیاسی ساکھ اور فیصلہ سازی پر سوال اٹھاتی ہے۔مزید برآں، پاکستان میں اس کیس کا تعلق سابق وزیراعظم عمران خان سے بھی جوڑا گیا، جن پر الزام تھا کہ ضبط شدہ رقم کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا۔

More posts