امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈلائن ختم ہونے میں محض چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر پاکستان اور مصر نے جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ کے تحت کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں اور اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جن میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر نے بھی ثالثی کے عمل میں حصہ لیتے ہوئے ایران کا پیغام امریکا اور دیگر ممالک تک پہنچایا ہے۔ اس پیغام میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے شدید نتائج برآمد ہوں گے اور پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے۔
ایرانی ذرائع نے مزید عندیہ دیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو ایران کے اتحادی اہم بحری گزرگاہ باب المندب کو بھی بند کر سکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے اور کسی بھی غلط قدم سے خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔ ایسے میں پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہیں تاکہ تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکے۔
امریکا کی ڈیڈلائن قریب، ٹرمپ کی دوبارہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی
