Baaghi TV

ایرانی وفد کا مذاکرات بارے سخت مؤقف،جہازسیٹوں پر شہید بچوں‌کی تصاویر

اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ اہم مذاکرات سے قبل سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستان کے لیے پرواز کے دوران ایک جذباتی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے لکھا کہ "طیارے میں یہ میرے احباب ہیں”۔ شیئر کی گئی تصویر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی بچوں کی تصاویر نشستوں پر پھولوں کے ساتھ رکھی گئی تھیں، جبکہ ان کے بستے اور جوتے بھی نمایاں تھے۔ ایرانی وزارتِ تعلیم کے مطابق ان حملوں میں 277 بچے اور 67 اساتذہ شہید ہوئے۔

ایرانی اسپیکر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران خیر سگالی کے جذبے کے تحت مذاکرات کے لیے آیا ہے تاہم امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلے سے طے شدہ نکات ہیں جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا حقیقی معاہدہ پیش کرے اور ایران کے حقوق تسلیم کرے تو ایران معاہدے کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، خاص طور پر لبنان میں جنگ بندی سے متعلق وعدہ پورا کیا جائے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے جس کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ موجود ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وفد آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایک مضبوط ٹیم بھیجی ہے جس میں جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اگر ایرانی وفد کی پیشگی شرائط کو امریکا قبول کر لیتا ہے تو آج دوپہر امریکی حکام کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ ایرانی وفد تقریباً 70 افراد پر مشتمل ہے جس میں سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور قانونی کمیٹیوں کے سربراہان شامل ہیں۔ وفد میں مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی، ملٹری کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل احمدیان اور قانونی کمیٹی کی سربراہ اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔مزید برآں وفد کے ہمراہ 26 رکنی ٹیکنیکل ٹیم، میڈیا نمائندگان، مترجمین، سیکیورٹی اور پروٹوکول اسٹاف بھی موجود ہے، جو اس حساس سفارتی عمل میں معاونت فراہم کریں گے۔

More posts