اسلام آباد میں جاری اہم امن مذاکرات کے دوران پاکستان نے ایک نہایت محتاط، منظم اور مؤثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مذاکراتی عمل کو میڈیا سرکس بننے سے محفوظ رکھا۔ اگرچہ بین الاقوامی میڈیا، ملکی صحافیوں اور سوشل میڈیا کی غیر معمولی دلچسپی موجود تھی، تاہم حکام نے اطلاعاتی ماحول کو اس انداز میں سنبھالا کہ تمام توجہ صرف مذاکرات کے اصل مقصد یعنی امن، استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ پر مرکوز رہی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے مذاکراتی ٹیموں کو مکمل سکون اور رازداری فراہم کی تاکہ حساس اور اہم معاملات پر سنجیدہ انداز میں گفتگو ممکن ہو سکے۔ حکومتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ کسی قسم کی غیر ضروری میڈیا ہلچل یا قیاس آرائی مذاکراتی عمل پر اثر انداز نہ ہو۔اسلام آباد میں قائم میڈیا سینٹر میں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کے لیے آرام دہ اور بہترین سہولیات فراہم کی گئیں، جہاں دنیا بھر سے آئے نمائندے موجود رہے۔ اس مرکز نے نہ صرف صحافیوں کے لیے رابطے اور معلومات کے تبادلے کا ماحول فراہم کیا بلکہ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے بھی مناسب سہولتیں مہیا کیں۔اطلاعات کی فراہمی صرف سرکاری ذرائع اور باضابطہ چینلز کے ذریعے کی گئی، جبکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں، جھوٹی خبروں اور بے بنیاد اطلاعات کی فوری تردید اور روک تھام کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حساس مذاکرات میں غیر مصدقہ اطلاعات نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے معلومات کے اجرا میں نظم و ضبط ضروری تھا۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات شہ سرخیوں کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے ہیں۔ ایسے مواقع پر خاموش اور سنجیدہ سفارت کاری ہی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔ماہرین نے پاکستان کے کردار کو ذمہ دارانہ اور بالغ نظر سفارت کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ثابت کیا ہے کہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے رازداری، تدبر اور بروقت معلوماتی نظم و نسق ناگزیر عناصر ہیں
