روس نے ایران سے متعلق جاری عالمی کشیدگی پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں باضابطہ ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا، تاہم ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
روسی صدر دفتر کریملن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ روس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اگر حالات کا تقاضا ہوا تو روس مثبت کردار ادا کرنے سے گریز نہیں کرے گا، تاہم اس وقت وہ ثالثی کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
کریملن نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل برقرار رہے گا کیونکہ یہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی ممکنہ منفی اثرات سے بچایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روس کا یہ بیان ایک متوازن سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ بیک وقت غیر جانبداری بھی ظاہر کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر تعاون کی پیشکش بھی کر رہا ہے۔ روس ماضی میں بھی خطے کے اہم تنازعات میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کا اثر و رسوخ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے نمایاں سمجھا جاتا ہے۔
ایران کے معاملے میں روس ثالث نہیں مگر مدد کیلئے تیار
